معرکہ حق میں جو دنیا نے دیکھا وہ ہماری مجموعی پاور پوٹینشل کا 10، 15 فیصد ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر


ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ایک سال قبل معرکۂ حق میں پاکستان نے اللہ کے فضل سے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دی، جبکہ اس جنگ میں دنیا نے پاکستان کی مجموعی طاقت کا صرف 10 سے 15 فیصد حصہ دیکھا۔
(راولپنڈی )پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ معرکۂ حق میں مسلح افواج قوم کی امنگوں پر پورا اتریں اور پاکستان نے ملٹی ڈومین وار میں اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دی۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران پاکستان نے واضح طور پر ڈیٹرینس قائم کیا اور جنگ کا زاویہ بدل دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو پاکستان کی طاقت پر شک ہے تو یہ صرف ایک جھلک تھی، پاکستان پہلے بھی تیار تھا اور اب بھی مکمل تیار ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات لگا کر گمراہ کن بیانیہ بنانے کی کوشش کی، جبکہ حقیقت میں بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اب بھارت کے بیانیے کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پہلگام واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اٹھائے گئے سوالات آج بھی موجود ہیں۔ انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ بتائے کن دہشتگردوں کو نشانہ بنایا گیا اور واقعے کے چند منٹ بعد ایف آئی آر کیسے درج ہو گئی۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے عوام پر ہونے والی دہشتگردی کا الزام دوسروں پر ڈال دیتا ہے۔
انہوں نے بھارت کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر جنگی زبان استعمال کی جائے گی تو پاکستان ہر محاذ پر جواب دینے کیلئے تیار ہے۔ ان کے مطابق یہ جنگ صرف زمین، فضا اور سمندر تک محدود نہیں بلکہ سائبر اور بیانیے کی جنگ بھی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اعلان کیا کہ 14 اگست کو ہونے والی عظیم الشان پریڈ میں پاکستان کی عسکری طاقت کی مزید جھلک دکھائی جائے گی تاکہ دنیا کو پاکستان کی دفاعی صلاحیت کا اندازہ ہو سکے۔
سیاسی معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور سیاسی جماعتوں کو اپنے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے چاہئیں۔
سعودی عرب سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات ہیں اور حرمین شریفین کا تحفظ ہر پاکستانی کیلئے اہم ہے۔
افغانستان سے متعلق انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور پاک فوج آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رکھے گی۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 7 مئی، 2026 کو 12:43 PM
آخری تدوین: 7 مئی، 2026



