چین کے دو سابق وزرائے دفاع کو کرپشن پر سزائے موت سنادی گئی


چین کی فوجی عدالت نے سابق وزرائے دفاع وی فینگے اور لی شانگفو کو کرپشن اور رشوت لینے کے الزامات ثابت ہونے پر سزائے موت سناتے ہوئے تمام جائیداد ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔
(چین) چین میں کرپشن کے خلاف جاری سخت کریک ڈاؤن کے دوران دو سابق وزرائے دفاع کو رشوت ستانی کے مقدمات میں سزائے موت سنا دی گئی ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق سابق وزرائے دفاع وی فینگے اور لی شانگفو پر بڑے پیمانے پر رشوت لینے اور قیمتی تحائف وصول کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جنہیں فوجی عدالت میں ثابت قرار دیا گیا۔
عدالت نے دونوں رہنماؤں کو سزائے موت سناتے ہوئے ان کی تمام جائیداد اور اثاثے ضبط کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق وی فینگے 2018 سے مارچ 2023 تک چین کے وزیر دفاع رہے، جبکہ لی شانگفو مختصر مدت کے لیے اس عہدے پر تعینات رہے تھے، تاہم بعد میں انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں کرپشن کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات جاری ہیں اور اعلیٰ حکومتی و عسکری شخصیات کے خلاف کارروائیاں اسی مہم کا حصہ ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ چینی قیادت فوج اور حکومتی اداروں میں بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 8 مئی، 2026 کو 04:00 AM
آخری تدوین: 8 مئی، 2026



