ایران نے موت اور تباہی کا راستہ اختیار کیا: صدر ٹرمپ کی کانگریس سے ”سیو امریکا ایکٹ“ منظور کرنے کی اپیل

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے کہا ہے کہ ایران نے ”موت اور تباہی کا راستہ اختیار کیا“، اسی لیے امریکا کو اپنی قومی سلامتی اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ امریکی فوج ایران میں جاری فوجی آپریشن کے دوران اپنے اہداف کامیابی سے حاصل کر رہی ہے اور اب تک دشمن کے تقریباً پانچ ہزار اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی ڈرون حملوں میں 85 فیصد کمی آ چکی ہے جبکہ ایران کی پچاس بحری جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق ایرانی میزائل بنانے کی سہولیات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ایران کی دہشت گرد قیادت کی جوابی حملوں کی صلاحیت میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے میزائل سائٹس پر دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم بھی گرائے گئے ہیں۔
کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کی تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران عالمی تیل مارکیٹ میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے تاہم امریکا اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ آئل ٹینکرز کو سکیورٹی فراہم کرے گی۔
ترجمان نے کہا کہ امریکیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ عارضی ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے ذریعے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔
کیرولائن لیوٹ کے مطابق ایران کے خلاف فوجی اہداف کے مکمل حصول میں چار سے چھ ہفتے لگ سکتے ہیں اور صدر ٹرمپ ہی یہ فیصلہ کریں گے کہ فوجی آپریشن جاری رکھا جائے یا نہیں۔
کیرولائن لیوٹ سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان ایران کیخلاف فوجی آپریشن میں کوئی تعاون فراہم کر رہا ہے جس پر ترجمان نے کہا کہ وہ اس حوالے سے تفصیلات دیکھ کر جواب دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی اقدامات کہ وجہ سے بھارت کو عارضی طور پر روس سے تیل خریدنے کی اجازت دی گئی ہے
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کانگریس سے “سیو امریکا ایکٹ” منظور کرنے کی اپیل بھی کی۔ ان کے مطابق اس قانون کے تحت مردوں کو خواتین کے کھیلوں میں حصہ لینے سے روکا جائے گا، ڈاکٹروں کو جنس کی تبدیلی کے اقدامات سے روکا جائے گا اور غیر قانونی تارکین وطن کو امریکی انتخابات میں حصہ لینے سے بھی روکا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے معاملے پر ڈیموکریٹس کی مخالفت دراصل صدر ٹرمپ کے خلاف سیاسی اختلافات کی عکاسی کرتی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 10 مارچ، 2026 کو 08:03 PM
آخری تدوین: 25 مارچ، 2026



