وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
تازہ ترین

بوشہر میں امریکی طیارہ گرانے کا دعویٰ، امریکا کی تردید؛ آبنائے ہرمز میں کشیدگی شدت اختیار کر گئی

W
Web Desk
29 مئی، 2026
بوشہر میں امریکی طیارہ گرانے کا دعویٰ، امریکا کی تردید؛ آبنائے ہرمز میں کشیدگی شدت اختیار کر گئی

پاسداران انقلاب نے بوشہر میں امریکی طیارہ گرانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ امریکی حکام نے اس کی تردید کردی۔ آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی، میزائل فائرنگ، ڈرون حملوں اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر عالمی تشویش بڑھ گئی

مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں پاسداران انقلاب نے ایرانی شہر بوشہر میں امریکی طیارہ گرانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم امریکی سینٹ کام نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔

امریکی حکام کے مطابق بوشہر میں کوئی امریکی طیارہ نہیں گرایا گیا۔ سینٹ کام کا کہنا ہے کہ امریکی اور علاقائی اتحادی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور خطے میں اپنی افواج اور مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر کشیدگی کا مرکز بن گیا ہے۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جہازوں کو وارننگ دینے کیلئے میزائل فائر کیے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز ایرانی ساحلی شہربندرعباس پر بھی بمباری کی گئی تھی۔

امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے بندرعباس میں ایک فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا، جسے امریکی اور تجارتی بحری جہازوں کیلئے خطرہ قرار دیا گیا۔ امریکی مؤقف کے مطابق ان حملوں کا مقصد امریکی افواج اور آبنائے ہرمز میں موجود تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات کا خاتمہ تھا۔

امریکا نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے چار ڈرونز ایک امریکی تجارتی جہاز کی طرف روانہ کیے گئے، تاہم امریکی افواج نے تمام ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔

ادھر ایرانی فورسز کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک امریکی آئل ٹینکر کو آبنائے ہرمز عبور کرنے سے روک دیا اور اسے واپس جانے پر مجبور کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی بحری تجارت کیلئے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی محاذ آرائی نے عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 29 مئی، 2026 کو 04:32 AM

آخری تدوین: 29 مئی، 2026

متعلقہ مضامین