ایران امریکا کشیدگی کے بعد متحدہ عرب امارات پر ڈرون اور میزائل حملے


متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حملے امریکا ایران کشیدگی کے بعد سامنے آئے۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد متحدہ عرب امارات پر ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ یو اے ای کے فضائی دفاعی نظام نے ہنگامی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں سنائی دینے والی زور دار آوازیں دراصل فضائی دفاعی نظام کی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں، جن کے ذریعے بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کیا جا رہا ہے۔
وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ یو اے ای کے دفاعی نظام مکمل طور پر متحرک ہیں اور ملک کو درپیش فضائی خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق فضائی دفاعی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان کو روکا جا سکے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ قشم بندرگاہ پر حالیہ دھماکے میں متحدہ عرب امارات ملوث ہو سکتا ہے، تاہم اسرائیلی میڈیا نے کہا ہے کہ اسرائیل کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک میں سکیورٹی خدشات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 8 مئی، 2026 کو 06:18 AM
آخری تدوین: 8 مئی، 2026



