امریکی کانگریس میں ایران۔امریکا ثالثی پر پاکستان کیلئے تعریفی قرارداد پیش


یہ قرارداد ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک رکن کانگریس ال گرین نے امریکی ایوان نمائندگان میں 119ویں کانگریس کے دوسرے سیشن کے دوران پیش کی
( واشنگٹن ڈی سی / محمد نعیم اختر ) امریکی کانگریس میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے ایک تعریفی قرارداد پیش کی گئی ہے، جس میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور امن مذاکرات کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنے پر پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔
یہ قرارداد ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک رکن کانگریس ال گرین نے امریکی ایوان نمائندگان میں 119ویں کانگریس کے دوسرے سیشن کے دوران پیش کی

قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان تعمیری مکالمے کو ممکن بنانے میں “اہم اور کلیدی ثالث” کا کردار ادا کیا اور امن کی کوششوں کیلئے محفوظ، قابل اعتماد اور سفارتی طور پر مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ کئی ممالک نے اس تنازع کے خاتمے کیلئے ثالثی کی کوششیں کیں، تاہم پاکستان واحد ملک کے طور پر ابھرا جس نے دونوں فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور مذاکرات کیلئے مؤثر کردار ادا کیا۔
متن کے مطابق پاکستان نے سفارتی وفود کی میزبانی کیلئے لاجسٹک مشکلات، سیکیورٹی انتظامات اور شہر بھر کی بندشوں سمیت مختلف چیلنجز برداشت کیے تاکہ مذاکراتی عمل جاری رکھا جا سکے۔
قرارداد میں اس جاری تنازع کے انسانی اور مالی نقصانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ متن کے مطابق اس کشیدگی میں اب تک 13 امریکی فوجی اہلکار ہلاک جبکہ 399 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ مزید کہا گیا کہ یہ تنازع امریکا کو تقریباً روزانہ ایک ارب ڈالر کا مالی نقصان پہنچا رہا ہے۔
قرارداد میں خبردار کیا گیا کہ اگر تنازع مزید بڑھا تو اس سے “امریکا کے اندر فتنہ، عدم اتحاد اور انتشار” پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ لڑائی کا خاتمہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ دنیا بھر کے ممالک کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
امریکی ایوان نمائندگان میں پیش کی گئی قرارداد میں اس امید کا اظہار بھی کیا گیا کہ پاکستان مستقبل میں بھی امن، سفارتکاری اور علاقائی استحکام کیلئے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 8 مئی، 2026 کو 02:22 AM
آخری تدوین: 8 مئی، 2026



