وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

سی آئی اے رپورٹ: ایران کئی ماہ تک امریکی ناکہ بندی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

W
Web Desk
8 مئی، 2026
سی آئی اے رپورٹ: ایران کئی ماہ تک امریکی ناکہ بندی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
NIRALLY SWEETS

خفیہ سی آئی اے رپورٹ کے مطابق ایران شدید امریکی معاشی اور فوجی دباؤ کے باوجود تین سے چار ماہ تک بحری ناکہ بندی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رپورٹ میں ایران کی میزائل طاقت اور آبنائے ہرمز میں خطرات سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔

(واشنگٹن -محمد نعیم اختر ) امریکی انٹیلیجنس کے ایک نئے خفیہ جائزے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران شدید امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود کم از کم تین سے چار ماہ تک معاشی طور پر خود کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ خفیہ سی آئی اے رپورٹ اس ہفتے امریکی پالیسی سازوں کو پیش کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ ایران فوری طور پر معاشی تباہی کا شکار نہیں ہوگا، حالانکہ اس پر مسلسل فوجی اور معاشی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔

یہ رپورٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دعوؤں کے برعکس سامنے آئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران امریکی دباؤ کے تحت تیزی سے کمزور اور تباہ ہو رہا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس حکام کا کہنا ہے کہ کئی ہفتوں سے جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران اب بھی نمایاں بیلسٹک میزائل صلاحیت رکھتا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ایران کے پاس جنگ سے پہلے موجود تقریباً 75 فیصد موبائل میزائل لانچرز اور 70 فیصد میزائل ذخیرہ اب بھی محفوظ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تہران نے زیرِ زمین تنصیبات تک دوبارہ رسائی حاصل کر لی ہے اور تباہ شدہ میزائل نظام کی مرمت بھی کر لی گئی ہے۔

یہ اندازہ ان سابق دعوؤں سے مختلف ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کا میزائل پروگرام تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

امریکی حکام اب بھی بحری ناکہ بندی کی حکمت عملی کا دفاع کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام سے ایران کی معیشت، تیل کی برآمدات اور عالمی تجارت شدید متاثر ہو رہی ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے حالیہ بیان میں کہا کہ دباؤ کی یہ مہم ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مستقل نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ایک امریکی انٹیلیجنس اہلکار نے کہا کہ امریکی ناکہ بندی ایران کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہے، تجارت متاثر ہو رہی ہے، حکومتی آمدنی کم ہو رہی ہے اور معاشی بحران میں تیزی آ رہی ہے۔

اہلکار کے مطابق ایران کی فوج اور بحریہ شدید کمزور ہو چکی ہیں جبکہ اس کی قیادت بھی دباؤ کا شکار ہے۔

یہ تنازع 28 فروری کو اس وقت شدت اختیار کر گیا جب امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایرانی فوجی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی محدود کر دی، جو عالمی تیل سپلائی کا ایک اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔

بعد ازاں صدر ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کر دی، جبکہ امریکہ نے “پروجیکٹ فریڈم” کے نام سے بحری سکیورٹی مشن بھی شروع کیا تاکہ خلیجی پانیوں میں تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

تاہم پاکستان کی درخواست پر اس مشن کو عارضی طور پر روک دیا گیا تاکہ سفارتی کوششوں کو موقع دیا جا سکے۔ ایرانی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے نئی امریکی تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔

سی آئی اے رپورٹ کے مطابق ایران 90 سے 120 دن یا اس سے زیادہ عرصے تک ناکہ بندی برداشت کر سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایران غیر فروخت شدہ تیل کو ٹینکروں میں ذخیرہ کر رہا ہے اور وسطی ایشیا کے ذریعے زمینی برآمدی راستے تلاش کر رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوائیٹ کے مطابق امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران کو روزانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران پہلے فوجی طور پر کمزور کیا گیا اور اب معاشی طور پر دباؤ میں لایا جا رہا ہے، جبکہ مذاکرات میں تمام برتری امریکہ کے پاس ہے۔

امریکی انٹیلیجنس حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتیں اب بھی عالمی بحری تجارت اور توانائی منڈیوں کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں کسی بھی محدود حملے کی صورت میں عالمی سطح پر شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 8 مئی، 2026 کو 03:25 AM

آخری تدوین: 8 مئی، 2026

متعلقہ مضامین