جیفری ایپسٹین کا مبینہ خودکشی نوٹ سامنے آگیا، جج نے دستاویز جاری کرنے کا حکم دے دیا


جیفری ایپسٹین کی مبینہ خودکشی سے قبل لکھا گیا ایک پراسرار نوٹ منظرِ عام پر آگیا ہے۔ وفاقی جج کے حکم پر جاری ہونے والی دستاویز میں ایپسٹین کے مبینہ الفاظ نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
(واشنگٹن -محمد نعیم اختر ) جنسی جرائم کے الزامات میں گرفتار مرحوم امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین سے منسوب ایک مبینہ خودکشی نوٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد ایک بار پھر اس کی موت سے متعلق سوالات اور قیاس آرائیاں شدت اختیار کر گئی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نوٹ میں درج تھا:
“الوداع کہنے کے وقت کا انتخاب کرنا بھی ایک نعمت ہے۔”
یہ ایک صفحے پر مشتمل ہاتھ سے لکھی گئی تحریر مبینہ طور پر جولائی 2019 میں ایپسٹین کی پہلی مبینہ خودکشی کی کوشش سے قبل جیل سیل میں چھوڑی گئی تھی۔

ایپسٹین کے سابق سیل میٹ نکولس ٹارٹاگلیون، جو چار افراد کے قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ مجرم ہے، نے دعویٰ کیا کہ اسے یہ نوٹ ایک کتاب کے اندر رکھا ہوا ملا تھا۔ اس کے مطابق نوٹ پہلی مبینہ خودکشی کی کوشش کے چند دن بعد دریافت ہوا۔
رپورٹس کے مطابق اُس وقت جیفری ایپسٹین نے ماہرِ نفسیات کے سامنے خودکشی کے خیالات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ:
“مجھے خود کو مارنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔”
بدھ کے روز ایک وفاقی جج نے اس مبینہ نوٹ کو عوام کے سامنے جاری کرنے کا حکم دیا، جس کے بعد پہلی بار عوام اور تفتیش کاروں کو یہ دستاویز دیکھنے کا موقع ملا۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اب تک اس بات کی کوئی حتمی تصدیق موجود نہیں کہ یہ نوٹ واقعی جیفری ایپسٹین نے خود تحریر کیا تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ نوٹ ایپسٹین کی ذہنی کیفیت یا ممکنہ محرکات سے متعلق محدود معلومات فراہم کرتا ہے، تاہم اس کی پراسرار موت سے جڑے سوالات آج بھی مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 7 مئی، 2026 کو 05:38 AM
آخری تدوین: 7 مئی، 2026



