اسٹیٹ بینک نے شرح سود بڑھا کر 11.5 فیصد کر دی، نئی مانیٹری پالیسی جاری

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کے تحت شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کرتے ہوئے پالیسی ریٹ 10.5 فیصد سے بڑھا کر 11.5 فیصد کر دیا، وجہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ قرار۔
(کراچی) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کرتے ہوئے پالیسی ریٹ 10.5 فیصد سے بڑھا کر 11.5 فیصد کر دیا ہے۔
ترجمان کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی کے طویل اجلاس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا، جس میں ملکی اور عالمی معاشی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی قیمتوں اور سپلائی چین پر دباؤ کے باعث شرح سود میں تبدیلی ضروری سمجھی گئی۔
اسٹیٹ بینک نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان کی معیشت پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں، جبکہ مہنگائی کے منظرنامے میں بھی نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مطابق موجودہ حالات میں مالیاتی استحکام برقرار رکھنے اور مہنگائی کو قابو میں رکھنے کیلئے پالیسی ریٹ میں اضافہ ناگزیر تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ جائزے میں اسٹیٹ بینک نے شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا، تاہم تازہ اجلاس میں اسے بڑھا کر 11.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق شرح سود میں اضافے سے قرضوں کی لاگت بڑھ سکتی ہے، تاہم اس اقدام کا مقصد مہنگائی کے دباؤ کو محدود کرنا اور معیشت میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 27 اپریل، 2026 کو 12:50 PM
آخری تدوین: 27 اپریل، 2026



