وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر کے قریب فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی سکیورٹی ہائی الرٹ ہو گئی

وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر کے قریب فائرنگ کے واقعے نے امریکی سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت متعدد اعلیٰ حکام موجود تھے۔
(واشنگٹن -محمد نعیم اختر)حکام کے مطابق حملہ آور سکیورٹی حصار کے قریب تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا، جس کے بعد سکیورٹی انتظامات پر سنجیدہ سوالات اٹھ گئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور کا تعلق کیلیفورنیا سے تھا اور وہ پیشے کے لحاظ سے ایک ٹیچر تھا، جسے کچھ عرصہ قبل "بیسٹ ٹیچر" ایوارڈ بھی مل چکا تھا۔
امریکی خبر رساں اداروں کے مطابق فائرنگ رکنے کے چند ہی لمحوں بعد ٹرمپ کو فوری طور پر اسٹیج سے ہٹا لیا گیا، تاہم دیگر اہم شخصیات کے انخلا میں تاخیر دیکھنے میں آئی، جس نے مختلف سکیورٹی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی کو ظاہر کیا۔
سابق سابق سیکرٹ سروس حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے بڑے عوامی اجتماعات کے لیے سکیورٹی دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے، چاہے اس کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
دوسری جانب، ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس مقام کو مکمل طور پر محفوظ قرار دینے سے گریز کیا، جس کے بعد موجودہ سکیورٹی نظام پر نظرثانی کا امکان مزید بڑھ گیا ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف سکیورٹی اقدامات بلکہ حساس تقریبات میں بین الادارہ جاتی رابطے کے نظام پر بھی ایک اہم سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 27 اپریل، 2026 کو 03:27 AM
آخری تدوین: 27 اپریل، 2026



