ایران کے خلاف جنگ سیزفائر کے بعد ختم ہو چکی، کانگریس منظوری ضروری نہیں: ٹرمپ انتظامیہ

ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ اپریل کی جنگ بندی کے بعد ختم ہو چکی، اس لیے مزید فوجی کارروائی کیلئے کانگریس سے منظوری ضروری نہیں رہی۔
واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ اپریل کے اوائل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد عملی طور پر ختم ہو چکی ہے، لہٰذا مزید فوجی کارروائی کیلئے امریکی کانگریس سے منظوری کی ضرورت نہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس قانونی تشریح کا مقصد وائٹ ہاؤس کو اس آئینی تقاضے سے بچانا ہے جس کے تحت کسی بھی طویل فوجی کارروائی کیلئے کانگریس سے باضابطہ منظوری لینا ضروری ہوتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان کوئی براہِ راست تصادم نہیں ہوا، جبکہ وار پاورز ریزولوشن کے تحت 60 دن کے اندر کانگریس کی منظوری لازمی تھی۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو اب 60 دن مکمل ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ چونکہ سات اپریل سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد دونوں افواج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا، اس لیے 1973 کے وار پاورز ریزولوشن کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی۔
ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ اب ختم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ جنگ بندی کے بعد عملی طور پر لڑائی رک چکی ہے۔
اگرچہ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط رکھی ہوئی ہے اور امریکی بحریہ ایرانی تیل کے ٹینکرز روکنے کیلئے ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم وائٹ ہاؤس اسے فعال جنگ تصور نہیں کر رہا۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 1 مئی، 2026 کو 08:41 AM
آخری تدوین: 1 مئی، 2026



