امریکا میں مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ

امریکا میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران مہنگائی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ توانائی اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات کے باعث آنے والے دنوں میں مزید مہنگائی کا خدشہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے وقت مہنگائی کم کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم یہ وعدہ تاحال پورا نہیں ہو سکا۔ مختلف ممالک پر بھاری ٹیرف عائد کرنے اور ایران کے ساتھ کشیدگی کے بعد مہنگائی کی صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
تازہ کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) رپورٹ کے مطابق سالانہ افراطِ زر کی شرح 3.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو فروری میں 2.4 فیصد تھی۔ ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں 0.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی سپلائی پر دباؤ اور توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہے۔ خاص طور پر پٹرول کی قیمتوں میں مارچ کے دوران 21.2 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا، جو مجموعی مہنگائی میں اضافے کا بڑا سبب بنا۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کاروباری ادارے ٹیرف کے اثرات خود برداشت کرتے رہے، تاہم توانائی اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات کے باعث اب کمپنیوں کے لیے مزید بوجھ اٹھانا مشکل ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافہ آنے والے مہینوں میں دیگر اشیاء کی قیمتوں کو بھی متاثر کرے گا جبکہ عام صارف کی زندگی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کشیدگی اور عالمی تیل مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو امریکا میں مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 10 اپریل، 2026 کو 05:12 PM
آخری تدوین: 10 اپریل، 2026



