روس کی نئی پیشکش: ایران کا افزودہ یورینیم اپنے پاس محفوظ رکھنے کو تیار

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد روس نے ایک بار پھر ایران کا اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم اپنے پاس محفوظ رکھنے کی پیشکش کر دی ہے، جسے ممکنہ امن معاہدے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
(ماسکو)روسی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل اور امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کیا ہے، تاہم روس نے کشیدگی کم کرنے کے لیے نئی تجویز پیش کی ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس مستقبل میں ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کے تحت ایران کا افزودہ یورینیم اپنے پاس محفوظ رکھنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ تجویز روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے دوران بھی پیش کی جا چکی ہے، تاہم اس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
کریملن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی کی دھمکی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عالمی منڈیوں، خصوصاً توانائی اور تجارت کے شعبوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ روس اس سے قبل بھی کئی بار ایران کے افزودہ یورینیم کو اپنی نگرانی میں لینے کی پیشکش کر چکا ہے، جسے ماہرین ممکنہ سفارتی حل کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 14 اپریل، 2026 کو 03:36 AM
آخری تدوین: 14 اپریل، 2026



