اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کی ٹرمپ پر تنقید، پوپ لیو کی بے توقیری ناقابل قبول قرار

اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پوپ لیو چہاردہم پر تنقید کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
(روم )عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق یورپ میں صدر ٹرمپ کی قریبی اتحادی سمجھی جانے والی اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی بھی پوپ لیو چہاردہم کی حمایت میں سامنے آگئیں۔ انہوں نے ٹرمپ کے بیانات کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیتھولک چرچ کے سربراہ کے خلاف اس نوعیت کی گفتگو قابل قبول نہیں۔
جارجیا میلونی نے کہا کہ پوپ لیو چہاردہم امن کی اپیل کرتے ہیں اور جنگ کی تمام شکلوں کی مذمت کرنا ان کی حیثیت کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذہبی قیادت کا امن کے لیے آواز بلند کرنا ایک فطری عمل ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز پوپ لیو چہاردہم کے ایران جنگ سے متعلق مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے انہیں خارجہ پالیسی کے لیے ناموزوں قرار دیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایسے پوپ کے حامی نہیں جو جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر نرم مؤقف رکھتے ہوں۔
دوسری جانب پوپ لیو چہاردہم نے صدر ٹرمپ کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ٹرمپ انتظامیہ سے کوئی خوف نہیں اور وہ امن کے پیغام کو جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو جنگ کے بجائے مکالمے اور امن کی ضرورت ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان کے بعد امریکا اور یورپی قیادت کے درمیان سفارتی اختلافات نمایاں ہونے لگے ہیں، جبکہ مذہبی اور سیاسی قیادت کے درمیان یہ معاملہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 14 اپریل، 2026 کو 06:23 AM
آخری تدوین: 14 اپریل، 2026



