ایران جنگ کے اثرات: عالمی فضائی کرایوں میں اضافہ، لاکھوں نشستیں کم


ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عالمی ایئرلائنز نے پروازیں کم اور کرایے بڑھا دیے ہیں، جس سے موسمِ گرما کی سفری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔
(کوالالمپور) ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور خطے میں توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے بعد عالمی فضائی صنعت شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں کرایوں میں اضافہ اور لاکھوں نشستوں میں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
ملائیشیا کے ریٹائرڈ ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت تھیوڈور کے مطابق بڑھتی ہوئی قیمتوں اور پروازوں کی منسوخی کے خدشے کے باعث انہوں نے اس بار جلدی ٹکٹیں بک کرائیں اور سستی ایئرلائنز کے بجائے بڑی بین الاقوامی ایئرلائنز کا انتخاب کیا۔
ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے جیٹ فیول کی قیمتیں فروری کے آخر سے اب تک 80 فیصد سے زائد بڑھ چکی ہیں۔
اس بحران کا براہِ راست اثر فضائی کمپنیوں پر پڑا ہے۔ امریکی کم لاگت ایئرلائن اسپرٹ ایئرلائنز نے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث اپنی سروس مستقل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ہوابازی کے تجزیاتی ادارے سیریم کے مطابق یکم جون سے 30 ستمبر تک مختلف خطوں میں تقریباً 93 لاکھ فضائی نشستیں کم کر دی گئی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال زیادہ سنگین رہی، جہاں دبئی اور دوحہ جیسے بڑے ایوی ایشن حب کے گرد فضائی حدود کی بندش نے بین الاقوامی ٹریفک کو متاثر کیا ہے۔ قطر ایئرویز نے اس عرصے میں تقریباً 20 لاکھ نشستیں کم کی ہیں جبکہ امارات اور اتحاد ایئرویز نے بھی بڑی تعداد میں پروازیں محدود کی ہیں۔
امریکہ میں بین الاقوامی پروازوں کے اوسط کرایے 1101 ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 16 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں، جبکہ اندرون ملک پروازوں میں 24 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ناروے کی ایوی ایشن کنسلٹنسی ون ایئر اے ایس کے مطابق یورپ اور ایشیا کے بعض روٹس پر کرایے پانچ گنا تک بڑھ چکے ہیں، جو عالمی سفری نظام پر دباؤ کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل ولی والش نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں بعض علاقوں میں جیٹ فیول کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، جو ایئرلائنز کی آپریشنل صلاحیت کو مزید متاثر کرے گی۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ عالمی سفر کی طلب اب بھی برقرار ہے، تاہم مہنگائی اور غیر یقینی صورتحال کے باعث مسافر پہلے سے زیادہ جلدی بکنگ کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ ختم ہونے کی صورت میں صورتحال بہتر ہو سکتی ہے، لیکن جیٹ فیول کی قیمتوں کو معمول پر آنے میں کئی ماہ یا ایک سال تک لگ سکتا ہے، جبکہ فضائی کرایے ممکنہ طور پر پہلے والی سطح پر واپس نہیں آئیں گے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 7 مئی، 2026 کو 07:04 AM
آخری تدوین: 7 مئی، 2026



