پاکستان کا تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر، برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ

ادارہ شماریات کے مطابق جولائی تا اپریل پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 32 ارب ڈالر ہو گیا، برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے نے خسارے کو مزید بڑھا دیا۔
(اسلاآباد)پاکستان کی معیشت کو درپیش چیلنجز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں تجارتی خسارہ بڑھ کر تقریباً 32 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا اپریل کے دوران تجارتی خسارے میں 20.28 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 5 ارب 49 کروڑ ڈالر زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس اضافے کی بڑی وجوہات برآمدات میں کمی اور درآمدی بل میں مسلسل اضافہ ہیں۔ اس دوران برآمدات 6.25 فیصد کمی کے ساتھ 25.10 ارب ڈالر تک محدود رہیں، جبکہ درآمدات 7.85 فیصد اضافے کے بعد 57 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔
مزید برآں، ماہانہ بنیادوں پر بھی صورتحال تشویشناک رہی، جہاں تجارتی خسارے میں 43.50 فیصد تک نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اگرچہ اپریل کے مہینے میں برآمدات میں 9.50 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی، لیکن اسی عرصے میں درآمدات میں 28 فیصد سے زائد اضافے نے اس بہتری کے اثرات کو کم کر دیا۔
ماہرین کے مطابق بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈال سکتا ہے اور حکومت کو برآمدات بڑھانے اور غیر ضروری درآمدات کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 5 مئی، 2026 کو 07:16 AM
آخری تدوین: 5 مئی، 2026



