امریکا میں سزائے موت کے مقدمات تیز کرنے کا فیصلہ، فائرنگ اسکواڈ بھی ممکنہ طریقوں میں شامل

امریکی محکمہ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی سطح پر سزائے موت کے مقدمات کو تیز کرنے کے لیے نئے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں فائرنگ اسکواڈ کو بھی سزا کے ممکنہ طریقوں میں شامل کیا گیا ہے
( واشنگٹن ڈی سی / محمد نعیم اختر ) امریکی خبر رساں ادارے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ محکمۂ انصاف کے مطابق، یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو دوبارہ نافذ کرنے کا حصہ ہے، جبکہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں ان میں سے کئی اقدامات کو محدود کر دیا گیا تھا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مہلک انجیکشن کے سابقہ طریقہ کار کو دوبارہ اپنایا جا رہا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ فائرنگ اسکواڈ جیسے متبادل طریقوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، اندرونی عمل کو آسان بنا کر سزائے موت کے مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، امریکہ کی پانچ ریاستوں میں پہلے ہی مخصوص شرائط کے تحت فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزا دینے کی اجازت موجود ہے۔ مارچ میں ریاست جنوبی کیرولینا میں ایک مجرم کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی گئی، جو 1970 کی دہائی کے بعد اس نوعیت کا چوتھا واقعہ تھا۔
قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے اپنے بیان میں کہا کہ نئی پالیسی کا مقصد سنگین جرائم میں ملوث افراد، جیسے دہشت گرد، بچوں کے قاتل اور پولیس اہلکاروں کے قاتلوں کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔
محکمۂ انصاف کے مطابق، ان اقدامات کے ذریعے سزائے موت کے حصول کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور سزا سنائے جانے سے لے کر اس پر عملدرآمد تک کے عرصے کو کم کیا جائے گا۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 24 اپریل، 2026 کو 07:23 PM
آخری تدوین: 24 اپریل، 2026



