امریکا کے پاس جنگ سے نکلنے کی واضح حکمت عملی نہیں، جرمن چانسلر

ایران میں براہِ راست مداخلت افغانستان اور عراق جیسی صورتحال پیدا کر سکتی ہے، آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے مدد کی پیشکش
(برلن) جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ امریکا کے پاس موجودہ جنگ سے نکلنے کی کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں اور مذاکرات میں بھی کوئی قائل کرنے والی پالیسی نظر نہیں آ رہی۔
جرمن چانسلر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی فریق مذاکرات کی میز پر توقع سے کہیں زیادہ بہتر انداز میں سامنے آیا ہے، جبکہ امریکی حکمت عملی اب بھی غیر واضح دکھائی دیتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا کو ایران کے اندر براہِ راست داخل ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ پھر اسے وہاں سے واپس نکلنا بھی پڑے گا، جیسا کہ افغانستان اور عراق سے نکلنا پڑا ۔
فریڈرک مرز نے کہا کہ ایرانی قیادت، خصوصاً نام نہاد پاسداران انقلاب کے ہاتھوں پوری قوم کی تذلیل ہو رہی ہے اور موجودہ صورتحال خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔
جرمن چانسلر نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے بارودی سرنگوں کے خاتمے میں مدد کی پیشکش کی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس سے پہلے دشمنی اور کشیدگی کا خاتمہ ضروری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ مستقل امن صرف سفارتکاری، جنگ بندی اور اعتماد سازی کے اقدامات سے ہی ممکن ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 27 اپریل، 2026 کو 04:18 PM
آخری تدوین: 27 اپریل، 2026



