’یہ پاگل لوگ ہیں جن سے نمٹنے کی ضرورت ہے‘: حملہ آور نے ’پچاس گز کے فاصلے‘ سے دوڑ کر حملے کی کوشش کی، صدر ٹرمپ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کے واقعے کو آزادی اظہار رائے پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملہ آور گرفتار ہو چکا ہے اور تقریب 30 روز بعد دوبارہ ہوگی۔
(واشنگٹن) ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ایک مستقل بال روم ہونا چاہیے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ جب فائرنگ کی آواز آئی تو وہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ آخر کیا ہوا ہے، تاہم چند سیکنڈز میں سیکرٹ سروس اہلکاروں نے انہیں اسٹیج سے ہٹا کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو کیلیفورنیا کا رہائشی ہے، جبکہ ایک سیکیورٹی اہلکار کو گولی لگی لیکن بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے وہ محفوظ رہا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے آواز سنتے ہی فوری اندازہ لگا لیا تھا کہ صورتحال معمول کے مطابق نہیں ہے۔ انہوں نے سیکرٹ سروس اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں ان پر فخر ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ آج آزادیٔ اظہار رائے پر حملہ کیا گیا ہے اور اس طرح کے گھٹیا لوگ ہماری زندگیاں بدلنا چاہتے ہیں، تاہم ان کا عزم تبدیل نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہلا حملہ نہیں، اس سے پہلے بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں، لیکن امریکا کو بلندیوں تک پہنچانے کے مشن سے وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں حملہ آور نے انفرادی طور پر قدم اٹھایا اور اس واقعے کا ایران جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے مطابق حملہ آور ان سے کافی دور تھا اور ان تک پہنچ نہیں سکتا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر اب 30 روز بعد دوبارہ منعقد ہوگا جبکہ مزید تحقیقات کے بعد صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 26 اپریل، 2026 کو 03:26 AM
آخری تدوین: 26 اپریل، 2026



