آبنائے ہرمز پر کشیدگی: ٹرمپ کا ایران سے ٹینکروں سے فیس نہ لینے کا مطالبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں اور ٹینکروں سے فیس لینا بند کرے، جبکہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ ایران جنگ بندی کے دوران کرپٹو کرنسی میں ٹول وصول کرنے پر غور کر رہا ہے۔
(واشنگٹن ڈی سی)سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکروں سے فیس وصول کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہو رہا ہے تو ایران کو فوری طور پر یہ عمل بند کر دینا چاہیے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق ایران کے آئل، گیس اور پیٹروکیمیکل مصنوعات برآمد کنندگان کی یونین کے ترجمان حامد حسینی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے کرپٹو کرنسی میں ٹول وصول کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے ایک اور بیان میں کہا کہ تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہو جائے گی، چاہے ایران تعاون کرے یا نہ کرے۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا اور عالمی تجارت متاثر ہوئی۔
ٹرمپ نے منگل کو ایران کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، تاہم نازک جنگ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت معمول کے 10 فیصد سے بھی کم رہی۔ تہران نے جہازوں کو اپنی علاقائی حدود میں رہنے کی وارننگ دے کر سمندری راستے پر کنٹرول برقرار رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس اہم گزرگاہ میں کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کے لیے پُرامید ہیں، تاہم اگر معاہدہ نہ ہوا تو صورتحال مزید پیچیدہ اور تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 10 اپریل، 2026 کو 04:43 AM
آخری تدوین: 10 اپریل، 2026



