صدر ٹرمپ کی سیکیورٹی پروٹوکول کا ازسرِ نو جائزہ، وائٹ ہاؤس کا اہم اجلاس طلب

صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر حالیہ قاتلانہ حملے کے بعد صدر کی سیکیورٹی پروٹوکول کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ سیکیورٹی مزید بہتر بنانے کے لیے وائٹ ہاؤس میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا جائے گا۔
(واشنگٹن ڈی سی / محمد نعیم اختر )وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں صدر ٹرمپ پر یہ تیسرا قاتلانہ حملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہفتے کے روز “اظہارِ رائے کی آزادی” کے حوالے سے ایک تقریب منعقد کی جا رہی تھی جسے حملہ آور نے ہائی جیک کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ امریکی سیاست میں اختلافات کو پُرامن رہنا چاہیے اور ملک سے سیاسی تشدد کا خاتمہ ضروری ہے۔ ان کے بقول صدر ٹرمپ نے جتنی دھمکیوں اور حملوں کا سامنا کیا، ماضی میں کسی امریکی رہنما نے نہیں کیا۔
کیرولائن لیوٹ نے الزام عائد کیا کہ بعض ڈیموکریٹ رہنما صدر ٹرمپ کے خلاف نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو مسلسل “فاشسٹ” اور “آمر” قرار دیا جاتا ہے، جبکہ بعض رہنماؤں کے بیانات ملک میں تشدد کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حملہ چند سیکنڈز میں ہوا تاہم سیکریٹ سروس نے فوری اور مؤثر کارروائی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر صورتحال ہر وقت مکمل طور پر پرفیکٹ نہیں ہو سکتی۔
اس سوال پر کہ سوشل میڈیا پر اس حملے کو ایک ڈرامہ قرار دیا جارہا ہے، کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ امریکی محکمہ انصاف واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور حقائق سامنے لائے جا رہے ہیں۔
ایران سے متعلق سوال پر کیرولائن لیوٹ نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کی نئی تجاویز پر اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ مشاورت کی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 27 اپریل، 2026 کو 06:16 PM
آخری تدوین: 27 اپریل، 2026



