سندھ طاس معاہدہ بحال کرایا جائے: پاکستان کا سلامتی کونسل سے مطالبہ

پاکستان نے اقوام متحدہ میں خط جمع کرا کر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر تشویش کا اظہار کیا اور سلامتی کونسل سے معاہدے کی مکمل بحالی کیلئے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت سندھ طاس معاہدہ کی مکمل بحالی کا پابند بنائے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے بھارت کے خلاف ایک باضابطہ خط جمع کرایا، جس میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی یہ کارروائی علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
عاصم افتخار کے مطابق یہ خط نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کی ہدایت پر جمع کرایا گیا اور اسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کے حوالے کیا گیا، جس میں معاہدے کی فوری اور مکمل بحالی کا مطالبہ شامل ہے۔
انہوں نے بھارت کی جانب سے پاکستان کی ثالثی کوششوں کے خلاف چلائی جانے والی مبینہ پروپیگنڈا مہم کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پاکستانی مندوب نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کا تنازع، جو طویل عرصے سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے، جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب اس مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق نکالا جائے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 24 اپریل، 2026 کو 05:37 AM
آخری تدوین: 24 اپریل، 2026



