امریکہ نے ایرانی جہاز اور عملہ پاکستان کے حوالے کر دیا

امریکہ نے ایرانی جہاز ایم وی توسکاکو عملے سمیت پاکستان منتقل کر دیا، سینٹکام کے مطابق مقصد ایران واپسی ہے، کشیدگی کے دوران یہ معاملہ عالمی توجہ کا مرکز رہا۔
واشنگٹن: امریکہ نے اپنے قبضے میں لیا گیا ایرانی بحری جہاز ایم وی توسکا عملے سمیت پاکستان منتقل کر دیا ہے، جہاں سے اسے ایران واپس بھیجنے کے اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سینٹکام کے ترجمان کیپٹن ٹام ہاکنز نے بتایا کہ جہاز کو ضبط کیے جانے کے بعد اس کے 22 رکنی عملے سمیت پاکستان منتقل کیا گیا ہے تاکہ واپسی کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق اس اقدام کا مقصد جہاز اور عملے کو بحفاظت ایران واپس بھیجنا ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس جہاز کو 19 اپریل کو خلیجِ عمان میں ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے قریب روکا گیا تھا۔ بعد ازاں گزشتہ ہفتے عملے کے 6 افراد کو پہلے ہی ایک علاقائی ملک کے حوالے کر دیا گیا تھا تاکہ انہیں واپس بھیجا جا سکے۔
یاد رہے کہ مال بردار جہاز پر ضبطی کے وقت مجموعی طور پر 28 افراد سوار تھے اور یہ واقعہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک نمایاں علامت بن گیا تھا۔ اس کارروائی کے بعد خلیجی خطے میں سکیورٹی، پابندیوں اور سمندری قوانین پر عالمی سطح پر بحث میں بھی اضافہ ہوا۔
امریکہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ جہاز پابندیوں کی خلاف ورزی میں ملوث تھا، جبکہ ایران نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے سمندری ڈاکا قرار دیا تھا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت بحال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس "انسانی ہمدردی" کے مشن میں کسی بھی رکاوٹ کا سخت جواب دیا جائے گا۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 4 مئی، 2026 کو 05:43 AM
آخری تدوین: 4 مئی، 2026



