ایرانی حکومت کے خلاف ہمارا اقتصادی آپریشن فیوری جاری ہے، امریکی وزیر خزانہ

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی اقتصادی آپریشن جاری ہے۔ امریکا نے ایرانی معیشت، ایئرلائنز اور خلیج فارس آبنائے اتھارٹی پر نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا
(واشنگٹن) امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کا اقتصادی دباؤ مسلسل بڑھایا جا رہا ہے اور ایرانی حکومت کے خلاف “اقتصادی آپریشن فیوری” جاری ہے۔
واشنگٹن سے جاری بیان میں امریکی وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ ایران شدید معاشی بحران کا شکار ہو چکا ہے، ایرانی فوجیوں کو بروقت تنخواہیں نہیں مل رہیں جبکہ پولیس اہلکار بھی ڈیوٹی انجام دینے سے گریز کر رہے ہیں۔
سکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ ایرانی معیشت اور ملکی کرنسی تیزی سے زوال کا شکار ہیں اور ایران کی خلیج فارس آبنائے اتھارٹی عالمی سطح پر غیر مؤثر ہو چکی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ امریکا نے اس اتھارٹی پر نئی پابندیوں کی منظوری دے دی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ایران کو ٹول ٹیکس اور امدادی ادائیگیوں کے حوالے سے سخت وارننگ جاری کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو ایرانی ایئر لائنز کی عالمی رسائی محدود کر دی جائے گی، جس میں لینڈنگ کی اجازت، ایندھن کی فراہمی اور ٹکٹوں کی فروخت تک رسائی بند کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھا کر اسے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام بارہا امریکی پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ایران بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی پالیسیوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور سفارتی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 28 مئی، 2026 کو 03:11 PM
آخری تدوین: 28 مئی، 2026



