ایران کا دعویٰ: یو اے ای حملوں میں ملوث، فجیرہ واقعہ امریکی مہم جوئی کا نتیجہ

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ یو اے ای حالیہ حملوں میں ملوث ہے جبکہ فجیرہ کی تیل تنصیبات پر حملہ امریکی مہم جوئی کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ امارات نے میزائل و ڈرون حملوں کی تفصیلات بھی جاری کر دیں۔
( متحدہ عرب امارات)مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جہاں ایران نے متحدہ عرب امارات پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حالیہ حملوں میں ملوث ہے، جبکہ امارات کے خلاف کارروائی کو جوابی ردعمل قرار دیا گیا ہے۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان کے مطابق فجیرہ میں تیل تنصیبات پر حملے کا کوئی پہلے سے طے شدہ منصوبہ نہیں تھا، بلکہ یہ واقعہ امریکی فوج کی مبینہ مہم جوئی کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکا آبنائے ہرمز کے ذریعے غیرقانونی جہازوں کی آمدورفت کے لیے راستہ ہموار کرنا چاہتا تھا۔
ایرانی ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر مزید حملے کیے گئے تو ایران خطے میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات کے خلاف کارروائی دراصل حالیہ حملوں کا ردعمل تھی۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک پر 12 بیلسٹک میزائل، 3 کروز میزائل اور 4 ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا گیا۔ اماراتی حکام کے مطابق ان حملوں میں 3 افراد معمولی زخمی ہوئے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فجیرہ میں مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے بعد ایک پیٹرولیم صنعتی مقام پر آگ بھڑک اٹھی۔ عرب میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ دبئی اور شارجہ کے ایئرپورٹس پر فلائٹ آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ممکنہ مزید تصادم کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 5 مئی، 2026 کو 05:18 AM
آخری تدوین: 5 مئی، 2026



