آبنائے ہرمز پر کشیدگی برقرار: ایران نے امریکی دعوے مسترد کر دیے، کنٹرول برقرار رکھنے کا اعلان

ایران نے آبنائے ہرمز پر امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول بدستور ایرانی مسلح افواج کے پاس ہے، جبکہ امریکہ نے بارودی سرنگیں ہٹانے اور بحری آپریشنز شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
(ایران)ایرانی فوج کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے ترجمان نے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے امریکی جہازوں کے گزرنے اور بارودی سرنگیں ہٹانے کے دعوے بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔ ترجمان کے مطابق آبنائے ہرمز سے کسی بھی بحری جہاز کی آمد و رفت کا اختیار صرف ایران کی مسلح افواج کے پاس ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران خطے میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی غیر قانونی یا یکطرفہ اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی سینٹ کام نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس مقصد کیلئے میزائلوں سے لیس امریکی بحریہ کے دو ڈسٹرائر تعینات کیے گئے ہیں تاکہ اس اہم آبی گزرگاہ کو محفوظ بنایا جا سکے۔
امریکی سینٹ کام کے مطابق دونوں جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیج عرب میں آپریشنز انجام دے چکے ہیں جبکہ آنے والے دنوں میں اضافی امریکی فوج اور زیر آب ڈرونز بھی اس آپریشن میں شامل کیے جائیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عالمی تجارت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنایا جائے گا اور جلد اس حوالے سے میری ٹائم صنعت کو آگاہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اور اس آبی راستے پر کشیدگی عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 12 اپریل، 2026 کو 07:13 AM
آخری تدوین: 13 اپریل، 2026



