آبنائے ہرمز عالمی گزرگاہ، ایران کو قبضے کی اجازت نہیں دیں گے: امریکی وزیر جنگ


امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے ایران پر آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملوں کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔
(واشنگٹن) پیٹ ہیگسیتھ نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی، تاہم امریکی نیوی نے ایرانی بحریہ کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔
پریس کانفرنس کے دوران امریکی وزیر جنگ نے کہا کہ ایران کے 6 بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز میں پیش قدمی کی کوشش کی، جبکہ ایران اب تک تجارتی جہازوں پر 9 مرتبہ حملے کر چکا ہے اور 2 جہازوں کو اپنی تحویل میں لے رکھا ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی گزرگاہ، ایران کو قبضے کی اجازت نہیں دیں گےانہوں نے کہا کہ خطے میں امریکی بحری جہاز موجود ہیں اور اہم سمندری گزرگاہ کی حفاظت یقینی بنائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے مزید حملے کیے تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ڈین کین نے بتایا کہ “پروجیکٹ فریڈم” کا آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر کیا گیا ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی نقل و حمل کی بحالی ہے۔ اس آپریشن کے تحت بحری اور فضائی نگرانی میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ خلیج میں تقریباً 22 ہزار 500 ملاح پھنسے ہوئے ہیں، تاہم آنے والے دنوں میں مزید جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی توقع ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معاملات مذاکرات کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں، اور امید ہے کہ ایران دانشمندانہ فیصلہ کرے گا، جبکہ امریکا دیگر ممالک خصوصاً جنوبی کوریا سے تعاون کی بھی توقع رکھتا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 5 مئی، 2026 کو 01:04 PM
آخری تدوین: 5 مئی، 2026



