عالمی قوانین کے تحت کوئی ملک انٹرنیشنل واٹرز کو کنٹرول نہیں کرسکتا، امریکی وزیرخارجہ


امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے آبنائے ہرمز میں مائنز بچھانے کو جنگی اقدام قرار دیا۔
(واشنگٹن) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران پر عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی ملک انٹرنیشنل واٹرز کو کنٹرول نہیں کرسکتا، جبکہ آبنائے ہرمز میں مائنز بچھانا ایک واضح جنگی اقدام ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ایران کی حالیہ کارروائیاں ناقابل قبول ہیں اور عالمی امن کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تقریباً 23 ہزار سویلین متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ تجارتی جہازوں کے عملے کو خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
مارکو روبیو نے مزید بتایا کہ اب تک 10 سویلین ملاح ہلاک ہو چکے ہیں، اور اس صورتحال کو تخریبی اور مجرمانہ فعل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے اپنے اثاثے تعینات کر رہا ہے تاکہ سمندری آمدورفت بحال کی جا سکے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں 7 ایرانی کشتیوں کو تباہ کیا، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر "پروجیکٹ فریڈم" کے تحت دو امریکی جہاز اس علاقے سے گزر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی باقاعدہ فوجی آپریشن نہیں، تاہم اگر امریکی فورسز پر حملہ کیا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
مارکو روبیو نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسے ایٹمی ہتھیار حاصل ہو گئے تو وہ پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ایران مذاکرات کی میز پر آ کر عالمی مطالبات کو تسلیم کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سفارتی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھرپور محنت کر رہے ہیں۔
امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں استحکام برقرار رکھنے اور عالمی تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 6 مئی، 2026 کو 05:37 AM
آخری تدوین: 6 مئی، 2026



