امرتسر نسل کشی کے 42ویں سال، سکھ فار جسٹس کا بھارتی فوجیوں کیخلاف 5 لاکھ ڈالر کا "جواب دہی انعام" فعال
محمد نعیم اختر
گرپتونت سنگھ پنوں نے اعلان کیا کہ سکھ پنتھ پنجاب کو بھارتی قبضے سے آزاد کرانے کی ناقابلِ روک راستے پر گامزن ہے۔ اس سلسلے میں اگست 16 کو امریکہ کے انڈیانا میں اگلا خالصتان ریفرنڈم ووٹنگ ہو گی
( واشنگٹن ) دربار صاحب پر بھارتی فوج کے وحشیانہ حملے کی 42ویں برسی کے موقع پر سکھ فار جسٹس (ایس ایف جے) نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت اور 1984 کے آپریشن میں ملوث جرنیلوں، لیفٹیننٹ جنرل برار، میجر جنرل پدھا، بریگیڈیئر خان اور کرنل رینا کے خلاف بین الاقوامی انسانی حقوق کی عدالتوں میں مقدمہ چلانے کے لیے 5 لاکھ ڈالر کا "باؤنٹی فار اکاؤنٹیبلٹی فنڈ" فعال کر دیا ہے

ایس ایف جے کے جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنوں نے ان جرنیلوں سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے کہا:
"تم نے ٹینکوں کی قیادت کی، تم نے اکال تخت کی تباہی کا حکم دیا۔ مگر شہید سنت بھنڈرانوالے اور داربار صاحب کی حرمت کی حفاظت کرتے ہوئے شہادت پانے والے بے باک سنگھوں کے سامنے تم میدان جنگ میں ہار گئے۔ چونکہ میدان میں ہارے، اس لیے تمہارے حکم پر بھارتی فوج نے بچوں اور نہتے سکھوں پر گولیاں چلائیں اور ان کا قتل کیا۔ یہ جنگی جرم ہے۔"

پنون نے مزید کہا کہ"تم سوچتے ہو کہ وقت گزرنے سے تمہیں استثنیٰ مل جائے گا؟ نہیں ملے گا۔ سکھ قوم کبھی نہیں بھولتی۔ کئی دہائیاں بھی تمہارے ہاتھوں سے خون نہیں دھو سکیں گی۔"
اپنے بیان میں سکھ رہنما نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل برار 1984 میں نہتے سکھ مردوں، عورتوں اور بچوں کے قتل عام کا مرکزی کمانڈر اور چہرہ ہیں۔ یونیورسل جیورڈکشن کے اصول کے تحت جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کوئی حدِّ مدت مقررنہیں ہے

گرپتونت سنگھ پنوں نے اعلان کیا کہ سکھ پنتھ پنجاب کو بھارتی قبضے سے آزاد کرانے کی ناقابلِ روک راستے پر گامزن ہے۔ اس سلسلے میں اگست 16 کو امریکہ کے انڈیانا میں اگلا خالصتان ریفرنڈم ووٹنگ ہو گی
اس تاریخی ووٹنگ کا وقف شہید بی بی ست نام کور اور شہید بی بی واہیگرو جی کور کی یاد میں کیا گیا ہے، جنہیں اکال تخت صاحب نے باضابطہ طور پر "شہید" کا درجہ دیا ہے

محمد نعیم اختر
محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 8 جون، 2026 کو 01:51 AM
آخری تدوین: 8 جون، 2026



