وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
پاکستان

وفاقی اسپتالوں کے فنڈز میں کروڑوں کی کٹوتی، پمز میں مفت ادویات بند ہونے کا خدشہ

W
Web Desk
16 اپریل، 2026
وفاقی اسپتالوں کے فنڈز میں کروڑوں کی کٹوتی، پمز میں مفت ادویات بند ہونے کا خدشہ

وزارت خزانہ نے کفایت شعاری مہم کے تحت وفاقی اسپتالوں کے فنڈز میں کروڑوں روپے کی کٹوتی کردی، پمز اسپتال میں ادویات، سرجری اور ایمرجنسی سہولیات متاثر ہونے کا خدشہ۔

(اسلام آباد) وزارت خزانہ کی جانب سے کفایت شعاری مہم کے تحت وفاقی اسپتالوں کے فنڈز میں کروڑوں روپے کی کٹوتیوں کے بعد طبی سہولیات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جبکہ اسپتال انتظامیہ نے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزارت صحت سے مداخلت کی اپیل کردی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے پمز اسپتال کے فنڈز سے 39 کروڑ روپے سے زائد کی کٹوتی کردی ہے، جبکہ دیگر وفاقی اسپتالوں کے فنڈز میں بھی کمی کی گئی ہے۔ فنڈز کی کٹوتی کے خلاف وفاقی اسپتالوں کی انتظامیہ نے وزارت صحت کو باضابطہ خط ارسال کر دیا ہے۔

پمز اسپتال کی جانب سے ارسال کردہ مراسلے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزارت صحت اس معاملے کو وزارت خزانہ کے ساتھ اٹھائے اور اسپتالوں کو کفایت شعاری مہم سے استثنیٰ دلایا جائے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزارت خزانہ نے اسپتالوں کو سامان کی خریداری سے بھی روک دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق فنڈز کی کٹوتی سے ادویات، شعبہ خریداری اور مینٹیننس کے بجٹ متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث وفاقی اسپتالوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پمز اسپتال کو جنریٹرز اور گاڑیوں کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قلت کا بھی سامنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فنڈز کی کمی کے باعث پمز میں مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی بند ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ وزیر اعظم کی ہدایت پر زیر علاج مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ پمز اسپتال کے پاس اس وقت صرف ایک ماہ کی ادویات کا اسٹاک باقی رہ گیا ہے۔

مزید برآں فنڈز کی کمی کے باعث سرجری کے سامان کی دستیابی بھی متاثر ہونا شروع ہوگئی ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق پمز اسپتال پہلے ہی ڈیڑھ ارب روپے سے زائد فنڈز کی کمی کا سامنا کر رہا ہے۔

اسپتال انتظامیہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فنڈز کی کٹوتی کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 16 اپریل، 2026 کو 06:22 AM

آخری تدوین: 16 اپریل، 2026

متعلقہ مضامین