آئی ایم ایف بورڈ اجلاس 8 مئی کو طلب، پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر قسط کی منظوری متوقع

آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اہم اجلاس 8 مئی کو ہوگا جس میں پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط، اقتصادی جائزے اور موسمیاتی پروگرام کی منظوری متوقع ہے۔
(واشنگٹن)عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اہم اجلاس 8 مئی کو طلب کر لیا گیا ہے، جس میں پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان پہلے ہی آئی ایم ایف کی تمام اہم شرائط پوری کر چکا ہے، جس کے باعث اس قسط کی منظوری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
اقتصادی جائزے اور پروگرامز کی منظوری
اجلاس میں پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت تیسرے اقتصادی جائزے کی منظوری متوقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی پروگرام کے دوسرے جائزے کی بھی منظوری دی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ 27 مارچ کو طے پایا تھا، جس کے بعد یہ اجلاس انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
محصولات اور حکومتی اقدامات
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پیٹرولیم لیوی کی وصولی 1468 ارب روپے کے مقررہ ہدف سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، جبکہ حکومت اس لیوی میں مزید اضافے پر بھی غور کر رہی ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت پر سبسڈی کم یا ختم کرنے کے لیے مسلسل دباؤ بھی برقرار ہے، تاکہ مالی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔
معیشت اور درپیش چیلنجز
حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ معیشت میں بہتری آ رہی ہے اور مہنگائی میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب بھی پاکستان کی معیشت کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔
حکام نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھا جائے گا اور اصلاحاتی اقدامات جاری رہیں گے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 28 اپریل، 2026 کو 04:50 AM
آخری تدوین: 28 اپریل، 2026



