بحریہ ٹاؤن منی لانڈرنگ کیس: ماریشس میں 45 لاکھ ڈالر مالیت کے اکاؤنٹس منجمد

نیب نے بحریہ ٹاؤن سے منسلک منی لانڈرنگ کیس میں اہم کارروائی کرتے ہوئے ماریشس میں 45 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کے دو مشترکہ بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے۔ رقوم کی ضبطی اور پاکستان واپسی کے لیے قانونی عمل جاری ہے
قومی احتساب بیورو (نیب) نے بحریہ ٹاؤن سے منسلک مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں اہم پیشرفت کرتے ہوئے ماریشس میں موجود 45 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں۔
نیب ذرائع کے مطابق احتساب عدالت کراچی کی منظوری کے بعد اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت احمد علی ریاض اور مبشرہ علی ملک کے ماریشس میں واقع سلور بینک کے دو مشترکہ اکاؤنٹس منجمد کیے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ اکاؤنٹس میں تقریباً 45 لاکھ امریکی ڈالر موجود ہیں اور قانونی کارروائی کے تحت ان رقوم تک رسائی روک دی گئی ہے۔
نیب حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ الزام سامنے آیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن سے منسلک رقوم مبینہ طور پر حوالہ ہنڈی کے ذریعے پاکستان سے بیرون ملک منتقل کی گئیں۔ تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ رقوم پہلے متحدہ عرب امارات منتقل ہوئیں اور بعد ازاں مختلف مالیاتی ذرائع کے ذریعے ماریشس پہنچائی گئیں، جہاں انہیں مشترکہ بینک اکاؤنٹس میں جمع کرایا گیا۔
نیب ذرائع کے مطابق وزارت خارجہ کے ذریعے ماریشس کے متعلقہ حکام سے رابطہ کر کے قانونی کارروائی کا باضابطہ آغاز کیا جا چکا ہے۔ اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کے تحت ان رقوم کی ضبطی اور پاکستان واپسی کے لیے اقدامات جاری ہیں اور یہ عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔
نیب کا کہنا ہے کہ ادارہ غیر قانونی ذرائع سے حاصل کیے گئے اثاثوں اور رقوم کا ملک اور بیرون ملک تعاقب جاری رکھے گا۔ ادارے کے مطابق بین الاقوامی تعاون کے ذریعے قومی دولت کی واپسی اور مالی جرائم کے خلاف کارروائی اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔
واضح رہے کہ یہ الزامات اور دعوے نیب ذرائع کے مؤقف پر مبنی ہیں، جبکہ اس معاملے میں متعلقہ فریقین کا تفصیلی ردعمل سامنے آنا باقی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 6 جون، 2026 کو 03:07 PM
آخری تدوین: 8 جون، 2026



