فتنہ الخوارج اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مبینہ روابط سے متعلق دعوے سامنے آگئے

سیکیورٹی اور حکومتی ذرائع کی جانب سے فتنہ الخوارج، بھارتی خفیہ ایجنسی را اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مبینہ روابط کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ آڈیو اور ویڈیو مواد کے حوالے سے مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں
سیکیورٹی اور حکومتی ذرائع کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود فتنہ الخوارج سے وابستہ ایک شخص اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مبینہ روابط سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایک ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ منظر عام پر آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس میں مبینہ طور پر مذکورہ شخص کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے متعلق بیانات اور ہدایات دیتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
رپورٹس کے مطابق مبینہ آڈیو گفتگو میں آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال، احتجاجی سرگرمیوں اور انتخابات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گفتگو میں انتخابات کی مخالفت اور سیاسی سرگرمیوں کو متاثر کرنے سے متعلق بات چیت شامل ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا مؤقف ہے کہ ان مبینہ روابط سے خطے میں بدامنی پھیلانے کی کوششوں کے شواہد ملتے ہیں، جبکہ بعض ماہرین نے بھی ان دعوؤں کو تشویش ناک قرار دیا ہے۔
دوسری جانب اس معاملے پر متعلقہ افراد یا تنظیموں کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔ آزاد ذرائع سے آڈیو اور ویڈیو مواد کی تصدیق بھی تاحال نہیں ہو سکی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 9 جون، 2026 کو 02:25 PM
آخری تدوین: 9 جون، 2026



