آسٹریلیا کا امریکا اور ایران سے مذاکرات کی میز پر واپسی کا مطالبہ، معاہدہ نہ ہونا مایوس کن قرار

آسٹریلیا نے امریکا اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ بندی برقرار رکھتے ہوئے دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں تاکہ جاری کشیدگی کا فوری اور پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔
آسٹریلوی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات کا بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونا مایوس کن ہے، فریقین کو جنگ بندی برقرار رکھتے ہوئے سفارتی عمل کو جاری رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا اس تنازعے کا فوری اور دیرپا حل دیکھنا چاہتا ہے کیونکہ کشیدگی میں اضافہ عالمی معیشت کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔
آسٹریلوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر اقتصادی غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارتکاری کو موقع دیں۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مذاکرات سے متعلق اپنے بیان میں کہا کہ بیشتر نکات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے تاہم دو سے تین نکات پر اختلافات برقرار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک ہی نشست میں کسی معاہدے تک پہنچنے کی توقع نہیں کی جانی چاہیے اور کسی کو بھی اتنی جلدی معاہدے کی امید نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مشاورت جاری رکھے گا۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ مذاکرات کے دوران مسائل اور حالات کی پیچیدگی بھی ایک اہم عنصر رہی جبکہ کچھ نئے موضوعات بھی بات چیت میں شامل کیے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران سفارتی محاذ پر اپنے حقوق اور مفادات کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی طاقتوں کی جانب سے مذاکرات کی بحالی پر زور اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 12 اپریل، 2026 کو 06:46 AM
آخری تدوین: 12 اپریل، 2026



