ایران جنگ کو عراق اور افغانستان جیسی شکل اختیار نہیں کرنے دیں گے، جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ تنازع کو عراق اور افغانستان جیسی طویل جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے سفارت کاری کی کامیابی اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی امریکی پالیسی پر زور دیا
(واشنگٹن) امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع طویل اور مہنگی جنگ میں تبدیل نہیں ہوگا، کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کو عراق اور افغانستان جیسی طویل فوجی مہمات میں نہیں پھنسانا چاہتے۔
امریکی اخبار یو ایس اے ٹو ڈے کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں جے ڈی وینس نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی ایک سال بعد دنیا کے لیے ماضی کا قصہ بن چکی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کا موازنہ عراق یا افغانستان کی طویل جنگوں سے نہیں کیا جا سکتا۔
جے ڈی وینس، جو خود عراق جنگ کے سابق فوجی رہ چکے ہیں، بیرون ملک امریکی فوجی مداخلت کے حوالے سے محتاط مؤقف رکھنے والے رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ دیگر امریکی صدور کی طرح ایسی پالیسی اختیار نہیں کریں گے جو امریکا کو ایک اور طویل جنگ میں دھکیل دے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی بنیادی ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، اور جب تک امریکی پالیسی اسی ہدف پر مرکوز رہے گی، تب تک یہ تنازع ایک وسیع اور طویل جنگ کی شکل اختیار نہیں کرے گا۔
جے ڈی وینس نے سفارتی کوششوں پر بھی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش جاری ہے اور ان کے خیال میں یہ کوششیں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ تاہم انہوں نے اس امکان کو بھی مسترد نہیں کیا کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو صدر ٹرمپ کے پاس دیگر آپشنز، بشمول فوجی اقدامات، بھی موجود ہیں۔
امریکی نائب صدر کے مطابق، "میرا خیال ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے۔ اگر سفارت کاری ناکام ہوتی ہے تو صدر کے پاس دیگر ذرائع بھی موجود ہیں، لیکن جب تک ہمارا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، یہ تنازع طویل جنگ میں تبدیل نہیں ہوگا۔"
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ مختلف سفارتی کوششوں کے باوجود مستقل امن معاہدے کی جانب پیش رفت تاحال سست روی کا شکار ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان وقفے وقفے سے ہونے والے حملوں نے خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 10 جون، 2026 کو 04:40 AM
آخری تدوین: 10 جون، 2026



