امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے بعد ایران پر امریکی جوابی فضائی حملے

آبنائے ہرمز میں کشیدگی نئی سطح پر، واشنگٹن نے "حقِ دفاع" میں کارروائی کا اعلان کردیا
( واشنگٹن / تہران / مسقط ) — امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی AH-64 اپاچی ہیلی کاپٹر کے تباہ ہونے کے بعد ایران کے خلاف نئے فضائی حملے شروع کر دیے ہیں، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو اس واقعے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اپنے فوجیوں اور مفادات کے دفاع کے لیے جواب دینا ضروری تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کارروائی کو "متناسب اور دفاعی ردعمل" قرار دیا گیا ہے

امریکی حملوں میں آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فضائی دفاعی نظام، ریڈار تنصیبات اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق حملے تین مختلف مراحل میں کیے گئے تاکہ ایرانی دفاعی صلاحیتوں کو محدود کیا جا سکے

اپاچی ہیلی کاپٹر کے ساتھ کیا ہوا؟
امریکی فوج کے مطابق AH-64 اپاچی ہیلی کاپٹر عمان کے ساحل کے قریب گشت کے دوران حادثے کا شکار ہوا۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ہیلی کاپٹر کو ایرانی ڈرون نے نشانہ بنایا، جبکہ بعض امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہیلی کاپٹر ممکنہ طور پر ایک ایرانی ڈرون سے ٹکرایا تھا۔ اس بات کی تحقیقات جاری ہیں کہ آیا یہ ٹکراؤ جان بوجھ کر کیا گیا یا حادثاتی تھا۔
ہیلی کاپٹر میں سوار دونوں امریکی پائلٹ محفوظ رہے اور انہیں ایک غیر معمولی ریسکیو آپریشن کے ذریعے بچا لیا گیا۔ امریکی بحریہ کے ایک خودکار سمندری ڈرون نے دونوں اہلکاروں کو سمندر سے نکال کر محفوظ مقام تک پہنچایا، جسے امریکی فوجی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا آپریشن قرار دیا جا رہا ہے

ایران کا ردعمل
ایران نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو تہران "فیصلہ کن جواب" دے گا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق قشم جزیرے، سیریک اور جنوبی ساحلی علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں

پس منظر: جنگ، جنگ بندی اور مذاکرات
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے بعد سفارتی رابطے دوبارہ بحال کرنے کی کوششیں جاری تھیں۔ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملوں اور اشتعال انگیزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، ڈرون حملوں اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر تناؤ میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل ہی یہ دعویٰ کیا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات روشن ہیں، تاہم اپاچی ہیلی کاپٹر کے واقعے نے ان کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے

خطے اور عالمی منڈیوں پر اثرات
آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان براہِ راست جھڑپوں میں اضافے سے عالمی تیل منڈیوں، بحری تجارت اور مشرقِ وسطیٰ کے امن پر نئے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو محدود فوجی کارروائیاں ایک وسیع علاقائی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہیں
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 10 جون، 2026 کو 01:22 AM
آخری تدوین: 10 جون، 2026



