جنگ بندی کے باوجود ایران-امریکا کشیدگی برقرار، حملوں کا سلسلہ جاری


ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے باوجود حملوں کا سلسلہ جاری، امریکی حکام کے مطابق 10 سے زائد حملے ہو چکے، خطے میں کشیدگی برقرار۔
(ویب نیوز رپورٹ — محمد نعیم اختر) :امریکی اعلیٰ فوجی عہدیدار ڈین کین کے مطابق ایران نے جنگ بندی کے بعد اب تک امریکی افواج پر 10 سے زائد حملے کیے ہیں، تاہم یہ حملے ابھی اس سطح تک نہیں پہنچے جو دوبارہ مکمل جنگی کارروائی کا باعث بنیں۔
دوسری جانب پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی رہنمائی کے لیے امریکی اقدامات عارضی نوعیت کے ہیں اور انہیں جاری فوجی کارروائیوں سے الگ سمجھا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے سمندری راستوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ابھی اپنی مکمل طاقت استعمال نہیں کی۔
معاشی سطح پر بھی اس تنازع کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ جنگ کے آغاز کے بعد امریکا میں پیٹرول کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہیں۔ اس کے باوجود اسٹاک مارکیٹس میں جزوی بہتری دیکھی جا رہی ہے۔
موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، تاہم خطے میں کشیدگی بدستور موجود ہے اور کسی بھی وقت شدت اختیار کر سکتی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 5 مئی، 2026 کو 01:29 PM
آخری تدوین: 5 مئی، 2026



