وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

امریکا کو اسرائیلی جاسوسی کا خدشہ، پینٹاگون نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

W
Web Desk
8 جون، 2026
امریکا کو اسرائیلی جاسوسی کا خدشہ، پینٹاگون نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

امریکی حکام کا دعویٰ، اسرائیل ٹرمپ انتظامیہ کے ایران اور مشرقِ وسطیٰ سے متعلق فیصلوں کی خفیہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اسرائیل نے الزامات مسترد کر دیے

( واشنگٹن / میڈیا رپورٹس ) امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اسرائیل کی جانب سے مبینہ جاسوسی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطرے کی سطح کو بلند ترین یعنی "کریٹیکل" درجے تک بڑھا دیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی پالیسیوں پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔

دو موجودہ اور ایک سابق امریکی عہدیدار کے مطابق پینٹاگون کی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (DIA) نے حالیہ ہفتوں میں ایک داخلی جائزہ رپورٹ جاری کی جس میں اسرائیل کی انسانی اور تکنیکی جاسوسی صلاحیتوں کو "کریٹیکل" قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اسرائیل امریکی اعلیٰ حکام اور ٹرمپ انتظامیہ کے اندرونی مشاورتی عمل سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سات صفحات پر مشتمل اس خفیہ جائزے میں متعدد ایسے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے امریکی حکام کی تشویش میں اضافہ کیا۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کون سا مخصوص واقعہ خطرے کی سطح بڑھانے کا سبب بنا۔

دوسری جانب واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے نے ان الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل امریکی اداروں یا حکومتی عہدیداروں کے خلاف جاسوسی نہیں کرتا۔ سفارت خانے کے ترجمان کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس سرگرمیوں کا ہدف دشمن عناصر ہوتے ہیں، اتحادی ممالک نہیں۔

وائٹ ہاؤس نے بھی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خبر حقائق پر مبنی نہیں اور ایسے ذرائع پر انحصار کرتی ہے جنہیں صورتحال کا علم نہیں۔ پینٹاگون نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

امریکی اور سابق سکیورٹی حکام کے مطابق اتحادی ممالک کے درمیان جاسوسی کوئی غیرمعمولی بات نہیں، تاہم حالیہ عرصے میں اسرائیلی سرگرمیوں کو معمول سے زیادہ جارحانہ تصور کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی اسرائیل پر امریکا کے خلاف جاسوسی کے الزامات لگتے رہے ہیں، جن میں 1980 کی دہائی کا مشہور جوناتھن پولارڈ کیس شامل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جنگ، لبنان کی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ کی نئی سفارتی حکمتِ عملی کے حوالے سے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان بڑھتے اختلافات کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو مزید دھچکا لگ سکتا ہے، حالانکہ امریکا اور اسرائیل اب بھی قریبی اتحادی اور انٹیلی جنس شراکت دار سمجھے جاتے ہیں۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 8 جون، 2026 کو 03:06 PM

آخری تدوین: 8 جون، 2026

متعلقہ مضامین