چین کے جدید J-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے، پاکستان پہلا بڑا خریدار
محمد نعیم اختر
پاکستان نے چین کے جدید ترین اسٹیلتھ لڑاکا طیارے J-35 کے 40 یونٹس تک خریدنے پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے بعد پاکستان اس جدید طیارے کا پہلا بین الاقوامی خریدار بن گیا ہے
( واشنگٹن ) دفاعی شعبے میں ایک بڑی پیش رفت کے تحت پاکستان نے چین کے جدید ترین اسٹیلتھ لڑاکا طیارے J-35 کے 40 یونٹس تک خریدنے پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے بعد پاکستان اس جدید طیارے کا پہلا بین الاقوامی خریدار بن گیا ہے۔
دفاعی ذرائع کے مطابق J-35A، جسے پہلی بار 2024 میں ژوہائی ایئر شو میں عوامی طور پر پیش کیا گیا تھا، چین کا جدید پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ ہے اور اسے امریکی F-35 کا متبادل تصور کیا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان کی فضائیہ کی وسیع تر جدید کار حکمتِ عملی کا حصہ ہے

دفاعی تعاون میں نئی وسعت
اطلاعات کے مطابق اس معاہدے میں صرف لڑاکا طیارے ہی شامل نہیں بلکہ KJ-500 ایئر بورن وارننگ اینڈ کنٹرول (AWACS) طیارے اور HQ-19 ایئر ڈیفنس سسٹمز کی شمولیت بھی متوقع ہے، جس سے پاکستان کی فضائی نگرانی اور دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
ذرائع کے مطابق چینی کمپنی شینیانگ ائرکرافٹ کارپوریشن نے پاکستان کے لیے ڈیلیوری شیڈول کو تیز کر دیا ہے اور رعایت بھی دی گئی ہے۔ پاکستانی وزارتِ دفاع کے مطابق ابتدائی پائلٹس کا ایک گروپ پہلے ہی چین میں تربیت حاصل کر رہا ہے، جبکہ پہلے طیاروں کی ترسیل آئندہ دو ماہ میں متوقع ہے

علاقائی سیکیورٹی پر اثرات
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے، خاص طور پر ہندوستان کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں۔ بھارتی حلقوں میں یہ تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ J-35 کی شمولیت سے خطے میں فضائی برتری کی دوڑ مزید تیز ہو سکتی ہے، اور بھارت اپنے پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں کے منصوبوں کو تیز کر سکتا ہے

پس منظر اور حالیہ دعوے
پاکستانی میڈیا میں یہ بھی رپورٹس زیر بحث ہیں کہ گزشتہ ماہ مبینہ فضائی جھڑپوں کے دوران پاکستان کے J-10 طیاروں نے کئی بھارتی طیاروں کو نشانہ بنایا۔ اسی طرح بعض رپورٹس میں دیگر ڈرونز کی تباہی کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ دفاعی معاہدہ اسی رفتار سے آگے بڑھتا رہا تو پاکستان اور چین کے درمیان عسکری تعاون ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال پر مرتب ہوں گے

محمد نعیم اختر
محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 9 جون، 2026 کو 08:30 PM
آخری تدوین: 9 جون، 2026



