ایران لبنان کو امریکا سے مذاکرات میں سودے بازی کے لیے استعمال کر رہا ہے، یہ ناقابل قبول ہے: لبنانی صدر جوزف عون

لبنانی صدر جوزف عون نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں لبنان کو سودے بازی کے آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ صدر عون نے حزب اللہ پر بھی زور دیا کہ تنازعات کا حل صرف مذاکرات میں ہے
(بیروت) لبنانی صدر جوزف عون نے ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں لبنان کو سودے بازی کے لیے استعمال کر رہا ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر جوزف عون نے ایران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "یہ تمہارا نہیں بلکہ ہمارا ملک ہے، اس کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے اور ایران کو لبنان کے داخلی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں۔"
لبنانی صدر کا کہنا تھا کہ یہ پیغام ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو بھی سمجھنا چاہیے کہ لبنان کے مفادات کو کسی علاقائی یا بین الاقوامی سودے بازی کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ موجودہ مسائل اور اختلافات کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مذاکرات اور سیاسی عمل میں پوشیدہ ہے۔
صدر عون نے مزید کہا کہ لبنان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام فریقوں کو قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔
لبنان میں ایران کے کردار اور حزب اللہ کے اثر و رسوخ کے حوالے سے صدر جوزف عون کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے تعلقات، سکیورٹی صورتحال اور سفارتی سرگرمیاں عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 5 جون، 2026 کو 07:49 PM
آخری تدوین: 5 جون، 2026



