وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
بلاگ

کراچی سب کا مگر کراچی کا کوئی نہیں۔۔

W
Web Desk
16 اپریل، 2026
کراچی سب کا مگر کراچی کا کوئی نہیں۔۔

2026 کے صرف ابتدائی تین ماہ میں کراچی میں تقریبا پندرہ ہزار جرائم کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ صرف مارچ کے مہینے میں مسلح ڈکیتیوں اور چوریوں کی وارداتوں میں اس شہر کے باسیوں کو پانچ ہزار سے زائد موٹرسائیکلوں، موبائل فون، کاروں اور دیگر گاڑیوں سے محروم کردیا گیا۔ بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں اس میں شامل نہیں

( تحریر: ڈاکٹر ندیم نصرت )

کراچی کے شہری تواتر کے ساتھ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ کراچی سب کا ہے مگر کراچی کا کوئی نہیں۔ اگر سچائی کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو اس شہر کے باسیوں کا دکھ اس جملہ میں چھپے شکوہ سے کہیں زیادہ گہراہے۔ پاکستان کے خزانہ میں اس شہر کا حصہ 25 فیصد سے کم نہیں، صوبہ سندھ کا تو تقریبا پورا خرچہ اکلوتا کراچی اٹھاتا ہے مگر جب اس شہر کے مسائل کے حل کی بات ہوتی ہے تو بنیادی مطالبات پر بھی اسے وعدوں پر ٹرخادیاجاتا ہے۔ صرف جرائم ہی کی مثال لے لیں: پولیس اور شہریوں کے مابین رابطہ کیلئے قائم سی پی ایل سی کی جانب سے جاریکردہ اعدادوشمار کے مطابق 2026 کے صرف ابتدائی تین ماہ میں کراچی میں تقریبا پندرہ ہزار جرائم کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ صرف مارچ کے مہینے میں مسلح ڈکیتیوں اور چوریوں کی وارداتوں میں اس شہر کے باسیوں کو پانچ ہزار سے زائد موٹرسائیکلوں، موبائل فون، کاروں اور دیگر گاڑیوں سے محروم کردیا گیا۔ بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں اس میں شامل نہیں۔ یہ اعدادوشمار اس جرائم زدہ شہر کی تصویر کا محض ایک مختصر سا حصہ ہیں کیونکہ شہریوں کا پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں پر سے اعتماد اس حد تک اٹھ چکا ہے کہ عوام بیشتر جرائم خصوصا موبائل فون اور نقدی چھینے جانے کے واقعات کی رپورٹ درج بھی نہیں کرواتے۔

شہر کی سڑکوں پر نظر ڈالیں تو ٹریفک کا بے ہنگم نظام، تباہ حال شاہراہیں اور سڑکیں۔ چند منٹوں کی بارش کے بعد یہ شہر ایک غلیظ تالاب کا منظر پیش کررہا ہوتا ہے۔ مسلح ڈاکوؤں کی گولیوں اور بدمست ٹینکروں کے نیچے کچلنے سے بچ جانے والے کھلے مین ہولز اور گڑہوں میں گرکر جابحق ہوجاتے ہیں۔ کراچی پاکستان کا وہ واحد شہر ہے جسکے شہری پانی کا بل دینے کے بعد بھی ٹینکروں سے منہ مانگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں ۔ تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں میں لسانی تعصب اور کوٹہ سسٹم کے سبب اس شہر کے نوجوانوں کو سرکاری اداروں میں نہ تو تعلیم کے مواقع حاصل ہیں نہ ہی ملازمتوں کے۔سوال یہ ہے کہ آخر ایک ایسا شہر جو ملک کی سب سے بڑی معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہو، وہ بنیادی شہری سہولیات تک سے کیوں محروم ہے؟

پی پی پی کی صوبائی حکومت کے اٹھارہ سالہ اقتدار میں کراچی کے ساتھ کیے جانے والے سلوک سے تو اس شہر کا شکوہ تو بالکل بجا ہےمگر وفاقی حکومتوں کا رویہ بھی کسی سوتیلی ماں سے کم نہیں۔ اس شہر کے باسیوں نے 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو دل کھول کر ووٹ دیئے مگر عمران خان نے بھی وزیراعظم بننے کے بعد اس شہر کے مسائل کے حل پر خاطرخواہ توجہ نہیں دی اور اس شہر کی ترقی کیلئے گیارہ سو ارب کے پیکیج کا اعلان توکیا مگر شہر کو ایک روپیہ تک نہیں ملا۔ وزیر اعظم شہباز شریف گزشتہ دنوں کراچی کے دورے پر آئے اور پی پی پی کی ایک خاتون رہنما کی بیٹی کی شادی کی مبارکباد جبکہ دوسری کی بیٹی کے انتقال پر تعزیت کیلئے انکے گھروں پر گئے لیکن گل پلازہ کے دلخراش سانحہ کی سائٹ پر جانا تو کجا انہوں نے اس پر کوئی تعزیتی لفظ تک ادا نہیں کیا۔

بیشتر مبصرین کا کہنا ہے کہ کراچی بلکہ شہری سندھ کے تمام مسائل کی جڑ صوبائی سطح پر بدعنوانی، غیر مؤثر حکمرانی، اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہیں۔ یہ بات جزوی طور پر تو درست ہے مگر کراچی کی بے بسی کی بنیادی وجہ اسکی انتظامی بے اختیاری ہے۔ زوالفقار علی بھٹو نے 1973 کی مردم شماری کے بعد اس وقت کے سیکریٹری داخلہ محمد خان جونیجو (وزیراعظم جونیجو والے نہیں) کو سرکاری ریکارڈز میں کراچی کی آبادی کو پچاس فیصد کم کرکے دکھانے کا حکم دیا تاکہ دیہی آبادی کی اکثریت قائم کی جاسکے (یہ بات سندھ ہائی کورٹ کے ریکارڈ پر موجود ہے)۔ اس اقدام کے بعد سوشلزم کے نام پر تمام صنعتوں، تعلیمی و معاشی اداروں کو بھی سرکاری تحویل میں لے لیا گیا۔ اس وقت ان اداروں کے مالکان کی اکثریت کراچی سے تعلق رکھتی تھی۔ ان اقدامات سے پاکستان کی معاشی شہہ رگ کی تباہی کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ آج تک جاری ہے۔ ساڑھے تین کروڑ کی آبادی کو ہر مردم شماری میں دو کروڑسے بھی کم دکھایا جاتا ہے جسکے نتیجہ میں کراچی کا انتظام دیہی سندھ سے منتخب ہونے والوں کے ہاتھ میں رہتا ہے،کراچی کے فیصلے کراچی والے نہیں کرسکتے۔ اس کھلی ناانصافی پر احتجاج کے جواب میں خون کی ندیاں بہانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور پاکستان ناکھپے کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔

لسانی و علاقائی سیاست نے پاکستان کو ماضی میں بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور بدقسمتی سے آج بھی ملک پر انگریزوں کا دیا ہوا لسانی نظام مسلط ہے جس نے ایک متحدہ پاکستانی قومیت کا تصور کبھی بھی مضبوط نہیں ہونے دیا۔

کراچی کے مسائل کا منطقی و منصفانہ حل یہی ہے کہ اس شہر کو لندن، نیویارک اور ٹوکیو کی طرز پر ایسی انتظامی خودمختاری دی جائے جہاں مقامی حکومت کو مالی، انتظامی اور پولیسنگ کے اختیارات حاصل ہوں۔ اور صرف کراچی ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں بڑے شہروں کو خودمختار انتظامی یونٹس کا درجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس فیصلہ سے لسانی تقسیم کی حامی قوتیں کمزور ہوں گی اور اختیارات چند افراد کے ہاتھوں سے نکل کرنچلی سطح پر منتقل ہوں گے جس سے نہ صرف ترقیاتی کام تیز ہوں گے بلکہ عوامی مسائل کا حل بھی مقامی سطح پر ممکن ہو سکے گا۔

کراچی کو صرف وسائل فراہم کرنے کی نہیں بلکہ اختیار دینے کی ضرورت ہے۔ جب تک اس شہر کے فیصلے دور دراز کے ایوانوں میں ہوتے رہیں گے، مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھتے رہیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ کراچی کو اس کا جائز مقام دیا جائے—ایک بااختیار، خودمختار اور فعال شہر کے طور پر۔

( لکھاری ) ڈاکٹر ندیم نصرت، ایم کیو ایم کے سابق کنوینرہیں اور کئی برسوں سے شہری سندھ کے حقوق کیلئے آواز اٹھانے والے ایڈوکیسی گروپ وائس آف کراچی کے چئیرمین ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف لندن سے سیاسیات و تاریخ میں ماسٹرز اور امریکہ کی یونیورسٹی آف نیو انگلینڈ سے آرگنایزئشنل مینیجمنٹ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کی ہوئی ہیں۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 16 اپریل، 2026 کو 09:08 PM

آخری تدوین: 17 اپریل، 2026

متعلقہ مضامین