وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

امریکا ایران مزاکرات میں 24 ارب ڈالرز کا نیا ڈیڈ لاک

W
Web Desk
8 جون، 2026
امریکا ایران مزاکرات میں 24 ارب ڈالرز کا نیا ڈیڈ لاک

ایران کا امریکا کو دو ٹوک پیغام: 24 ارب ڈالر جاری کرو، ورنہ خطے میں جنگ مزید پھیل سکتی ہے. سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی کا دعویٰ، مذاکرات تعطل کا شکار؛ امریکی حملے کی صورت میں ایران خلیج فارس سے بحیرۂ روم تک محاذ کھول سکتا ہے

( واشنگٹن / سی این این ) ایران کے سپریم لیڈر کے عسکری مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدہ اس وقت تعطل کا شکار ہے اور اس تعطل کو ختم کرنے کی ذمہ داری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکا ایران کے منجمد کیے گئے 24 ارب ڈالر کے اثاثے جاری کرے، جسے تہران اعتماد سازی کے لیے بنیادی شرط قرار دے رہا ہے

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ اگر واشنگٹن واقعی ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے تو اسے پہلے 24 ارب ڈالر کی رقم بحال کرکے اعتماد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق یہ رقم ایران کی اپنی دولت ہے، نہ کہ امریکا کا سرمایہ۔

رپورٹ کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ عبوری معاہدے پر دستخط ہوتے ہی 12 ارب ڈالر جاری کیے جائیں، جبکہ باقی 12 ارب ڈالر بعد کے مرحلے میں فراہم کیے جائیں تاہم امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ اس مرحلے پر اثاثے بحال کرنے سے ایران پر موجود ایک اہم سفارتی دباؤ ختم ہو جائے گا۔

محسن رضائی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا دوبارہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرتا ہے تو جنگ صرف خلیج فارس تک محدود نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی کارروائیوں کا دائرہ آبنائے ہرمز سے بڑھا کر بحرِ ہند، باب المندب، بحیرۂ احمر اور بحیرۂ روم تک پھیلا سکتا ہے

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران ان امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے جو اب تک حملوں کی زد میں نہیں آئے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الحال وسیع جنگ کے امکانات کم ہیں۔

ایرانی رہنما آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ممکنہ ملاقات کے سوال پر محسن رضائی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایسی کسی ملاقات کا فی الحال کوئی امکان نہیں۔ ان کے بقول مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ نے ہی انہیں تعطل کا شکار کیا ہے۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے رضائی نے ایک بار پھر ایران کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اس اہم عالمی آبی گزرگاہ پر ایران اور عمان کی مشترکہ خودمختاری ہے اور دونوں ممالک مل کر اس کا انتظام چلائیں گے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ بحری جہازوں سے انتظامی اور دیکھ بھال کے اخراجات کے نام پر فیس وصول کی جا سکتی ہے

محسن رضائی ایران کے طاقتور پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر رہ چکے ہیں اور ملکی سلامتی کے اداروں میں ان کا اثر و رسوخ اب بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ وہ سابق صدر ابراہیم رئیسی کی حکومت میں نائب صدر بھی رہ چکے ہیں اور کئی مرتبہ صدارتی انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں اور امریکا ایران پر زمینی حملہ کرتا ہے تو دنیا ایران کی حقیقی عسکری صلاحیتوں کو دیکھے گی۔ ان کے بقول ایران کی زمینی جنگی قوت اس کے میزائل پروگرام سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔

محسن رضائی نے حالیہ امریکا۔اسرائیل جنگ کو اسلامی جمہوریہ ایران کی 47 سالہ تاریخ کی پہلی بڑی فوجی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کی جنگوں کے برعکس اس بار ایران اپنے مخالفین کے سامنے سرخرو ہو کر ابھرا ہے

تجزیہ کاروں کے مطابق محسن رضائی کے بیانات ایران کے طاقتور حلقوں کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں اور یہ اس بات کا اشارہ ہیں کہ تہران مستقبل کے کسی بھی معاہدے میں معاشی رعایتوں اور منجمد اثاثوں کی بحالی کو مرکزی حیثیت دے رہا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات بھی بدستور موجود ہیں

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 8 جون، 2026 کو 03:35 PM

آخری تدوین: 8 جون، 2026

متعلقہ مضامین