وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
پاکستان

سٹیٹ بینک نے کرپٹو کمپنیوں کو بینک اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دے دی

W
Web Desk
15 اپریل، 2026
سٹیٹ بینک نے کرپٹو کمپنیوں کو بینک اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دے دی

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے لائسنس یافتہ کرپٹو کمپنیوں کو بینک اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دے دی ہے، جبکہ ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے تحت نئے ریگولیٹری قواعد بھی نافذ کر دیے گئے ہیں۔

(کراچی) سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی جانب اہم قدم اٹھاتے ہوئے کرپٹو کمپنیوں کو بینک اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق حکومت نے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی سے لائسنس یافتہ کرپٹو کمپنیاں بینکنگ سہولت حاصل کر سکیں گی۔

سٹیٹ بینک کے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ کرپٹو کمپنیاں بینکوں میں "کلائنٹ منی اکاؤنٹس" کے نام سے اکاؤنٹس آپریٹ کریں گی، تاہم ان اکاؤنٹس سے براہ راست رقم نکلوانے یا جمع کرانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

مزید بتایا گیا ہے کہ یہ اکاؤنٹس صرف ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کیلئے استعمال ہوں گے اور ان پر کوئی منافع (انٹرسٹ) نہیں دیا جائے گا۔ بینک ان اکاؤنٹس میں صارفین یا اپنے فنڈز کو بطور سرمایہ استعمال نہیں کر سکیں گے۔

سرکلر کے مطابق کرپٹو ٹرانزیکشنز صرف پاکستانی روپے میں آن لائن ٹریڈ کی جائیں گی اور انہیں قرض یا سیکیورٹی کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔

سٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ تمام بینکوں کو سخت نگرانی اور چھان بین کے نظام کے تحت ان اکاؤنٹس کی مانیٹرنگ کرنا ہوگی جبکہ رسک پروفائلنگ سسٹم کو بھی اپڈیٹ کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام پاکستان میں ڈیجیٹل فنانس اور کرپٹو ریگولیشن کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے، تاہم اس کے مؤثر نفاذ کیلئے سخت ریگولیٹری نگرانی ضروری ہوگی۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 15 اپریل، 2026 کو 07:19 AM

آخری تدوین: 15 اپریل، 2026

متعلقہ مضامین