ٹرمپ انتظامیہ نے 17 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کی کارروائی شروع کردی

محکمہ انصاف کے مطابق نشانے پر موجود افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے دھوکہ دہی کے ذریعے امریکی شہریت حاصل کی، جبکہ بعض افراد پر کم عمر بچوں کے جنسی استحصال سمیت سنگین جرائم کے الزامات بھی عائد ہیں
( واشنگٹن / نیوز ایجنسیز ) امریکی محکمہ انصاف نے ملک بھر میں 17 افراد کی امریکی شہریت منسوخ کرنے کے لیے قانونی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے "ڈی نیچرلائزیشن" مہم میں ایک اہم اور غیرمعمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
محکمہ انصاف کے مطابق نشانے پر موجود افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے دھوکہ دہی کے ذریعے امریکی شہریت حاصل کی، جبکہ بعض افراد پر کم عمر بچوں کے جنسی استحصال سمیت سنگین جرائم کے الزامات بھی عائد ہیں

ڈی نیچرلائزیشن وہ قانونی عمل ہے جس کے ذریعے کسی ایسے شخص کی شہریت واپس لی جاتی ہے جس نے قدرتی طریقے سے امریکی شہریت حاصل کی ہو۔ امریکی قانون کے تحت یہ عمل انتہائی نایاب سمجھا جاتا ہے اور صرف وفاقی عدالت کے حکم سے ہی ممکن ہوتا ہے۔
تاریخی طور پر امریکہ میں شہریت منسوخ کرنے کے مقدمات مختلف بنیادوں پر دائر کیے جاتے رہے ہیں، جن میں شہریت حاصل کرتے وقت غلط معلومات فراہم کرنا، آمد کی تاریخ، عمر یا ازدواجی حیثیت سے متعلق حقائق چھپانا شامل ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق سابق صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت میں محکمہ انصاف نے شہریت منسوخی کے 24 مقدمات دائر کیے تھے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں اس تعداد سے آگے نکلتی دکھائی دے رہی ہے۔ رواں سال مئی میں بھی انتظامیہ نے ایک درجن افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے اقدامات کیے تھے۔
قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانک نے اپنے بیان میں کہا کہ "امریکی شہریت حاصل کرنا ایک اعزاز ہے، اور صدر ٹرمپ کی قیادت میں محکمہ انصاف اس عمل کے غلط استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔"
دوسری جانب امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے سربراہ مارک وین مالین نے کہا کہ انتظامیہ قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے شہریت منسوخ کرنے اور غیر ملکی شہریوں کو ملک بدر کرنے کے تمام ممکنہ راستے استعمال کرتی رہے گی۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی یہ پالیسی امریکی امیگریشن اور شہریت کے قوانین پر نئی بحث چھیڑ سکتی ہے، جبکہ ناقدین اسے قدرتی شہریت حاصل کرنے والے لاکھوں امریکیوں کے لیے تشویش کا باعث قرار دے رہے ہیں
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 8 جون، 2026 کو 07:37 PM
آخری تدوین: 8 جون، 2026



