کاکروچ جنتا پارٹی کا مودی کو انتباہ، ہندو مسلم سیاست کے بجائے روزگار اور تعلیم پر توجہ دینے کا مطالبہ

بھارت کی نوجوان احتجاجی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی نے مودی حکومت پر ہندو مسلم سیاست کو فروغ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے روزگار، تعلیم اور نوجوانوں کے مسائل کو ترجیح بنانے کا مطالبہ کیا ہے
(نئی دہلی) بھارت میں ابھرنے والی نوجوان احتجاجی تحریک "کاکروچ جنتا پارٹی" (سی جے پی) نے وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کو ہندو مسلم بیانیے کے مسلسل استعمال پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ملکی سیاست کا رخ عوامی مسائل کی جانب موڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سی جے پی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران بھارتی سیاست کو بڑی حد تک ہندو مسلم ایجنڈے تک محدود رکھا گیا، جبکہ بے روزگاری، تعلیم، مہنگائی اور نوجوانوں کے مستقبل جیسے اہم مسائل پس منظر میں چلے گئے۔
تنظیم نے خبردار کیا کہ ملک کے نوجوان اب روایتی مذہبی اور فرقہ وارانہ سیاست سے آگے بڑھ کر عملی مسائل کے حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے، تعلیمی اصلاحات متعارف کرانے اور نوجوانوں کی فلاح کے لیے مؤثر پالیسیاں بنانی چاہئیں۔
رپورٹس کے مطابق سی جے پی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صرف مذہبی بیانیے کے ذریعے ملک کو درپیش معاشی اور سماجی چیلنجز کا حل ممکن نہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی وزیر تعلیم کے استعفے کے بعد تعلیمی نظام میں اصلاحات اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کے حوالے سے اپنا ایجنڈا پیش کرے گی۔
سی جے پی کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ ملکی سیاست کو مذہبی تقسیم سے نکال کر ترقی، تعلیم اور اقتصادی استحکام جیسے بنیادی عوامی مسائل پر مرکوز کیا جائے۔
واضح رہے کہ حالیہ عرصے میں بھارت میں نوجوانوں کی جانب سے بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کے حوالے سے مختلف احتجاجی مہمات سامنے آئی ہیں، جنہوں نے حکومت کی پالیسیوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 9 جون، 2026 کو 06:45 AM
آخری تدوین: 9 جون، 2026



