وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
تازہ ترین

چین نے ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو سراہ دیا، اسلام آباد کو قابل اعتماد ثالث قرار دے دیا

W
Web Desk
7 جون، 2026
چین نے ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو سراہ دیا، اسلام آباد کو قابل اعتماد ثالث قرار دے دیا

ایران میں چین کے سفیر کانگ پیوو نے ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی اور اسلام آباد مذاکرات میں پاکستان کے فعال کردار کو سراہتے ہوئے اسے قابل اعتماد ثالث قرار دیا۔ چین نے خطے میں امن، استحکام اور سفارت کاری کی حمایت کا اعادہ بھی کیا

(تہران)ایران میں چین کے سفیر کانگ پیوو نے ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی اور اسلام آباد مذاکرات میں پاکستان کے فعال کردار کو سراہتے ہوئے اسے قابل اعتماد ثالث قرار دیا۔ چین نے خطے میں امن، استحکام اور سفارت کاری کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

ایران میں چین کے سفیر کانگ پیوو نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ چین ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی میں سہولت کاری اور اسلام آباد مذاکرات کی میزبانی میں پاکستان کے فعال کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چینی سفیر نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کو فروغ دینے کے لیے اہم کردار ادا کیا، جسے چین مثبت پیش رفت سمجھتا ہے۔

کانگ پیوو کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی روح کے منافی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام تنازعات اور اختلافات کا حل مذاکرات، بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

چینی سفیر نے کہا کہ چین ایران کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی تعمیری کوششیں جاری رکھے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین کا مشرق وسطیٰ میں کوئی ذاتی یا جغرافیائی سیاسی مفاد نہیں، بلکہ بیجنگ ہمیشہ امن، استحکام اور مشترکہ ترقی کو فروغ دینے کی پالیسی پر کاربند رہا ہے۔ ان کے مطابق مستقل جنگ بندی اور پائیدار امن کے حصول کے لیے مذاکراتی عمل کا جاری رہنا ناگزیر ہے۔

کانگ پیوو نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے، اس لیے اس کی سلامتی اور کھلا رہنا نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے اقتصادی مفادات کے لیے ضروری ہے۔

چینی سفیر نے واضح کیا کہ ایران اور چین کے درمیان معمول کی تجارتی اور اقتصادی سرگرمیاں بیرونی دباؤ سے متاثر نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ چین کسی بھی بیرونی طاقت کو دونوں ممالک کے جائز اقتصادی تعاون کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری "جنگل کے قانون" کی طرف واپس نہیں جا سکتی، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین، کثیرالجہتی نظام اور سفارتی مکالمے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق چینی سفیر کا بیان خطے میں امن کے لیے پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار اور چین کی جانب سے اسلام آباد پر اعتماد کا اہم اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 7 جون، 2026 کو 07:06 AM

آخری تدوین: 7 جون، 2026

متعلقہ مضامین

امریکا: 27 لاکھ زندہ افراد کو سوشل سیکیورٹی ریکارڈ میں مردہ ظاہر کرنے کے مبینہ منصوبے کا انکشاف
امریکا

امریکا: 27 لاکھ زندہ افراد کو سوشل سیکیورٹی ریکارڈ میں مردہ ظاہر کرنے کے مبینہ منصوبے کا انکشاف

امریکا میں سوشل سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن کے سابق عہدیدار نے الزام لگایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے بعض حکام نے تقریباً 27 لاکھ زندہ افراد کو "ڈیتھ ماسٹر فائل" میں شامل کر کے مردہ ظاہر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم ادارے نے ان الزامات کی تردید کر دی ہے

محمد نعیم اختر10 جون، 2026
دفاع کیلئے وسائل کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم شہباز شریف
پاکستان

دفاع کیلئے وسائل کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی چیلنجز کے باوجود دفاع کے لیے وسائل کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، جبکہ روزگار، برآمدات اور معاشی استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری ہیں

Web Desk10 جون، 2026
ایران کو مذاکرات میں تاخیر کی قیمت چکانا ہوگی، ٹرمپ کی سخت وارننگ
تازہ ترین

ایران کو مذاکرات میں تاخیر کی قیمت چکانا ہوگی، ٹرمپ کی سخت وارننگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات میں تاخیر کی بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس کے کئی اہم دفاعی شعبے تباہ ہو چکے ہیں

Web Desk10 جون، 2026