بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کاآپریشن سندور میں بدترین شکست کااعتراف

بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف انیل چوہان کے آپریشن سندور سے متعلق حالیہ بیانات پر دفاعی ماہرین نے شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ممکنہ ناکامی کو چھپانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
(نئی دہلی) رپورٹس کے مطابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف انیل چوہان نے آپریشن سندور کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے چیلنجز مختلف نوعیت کے ہوں گے اور ماضی پر توجہ دینے کے بجائے آئندہ کی تیاری ضروری ہے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کے بیانات اور غیر پراعتماد انداز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس آپریشن میں بھارت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آپریشن کے دوران ٹیکنالوجی کو ذمہ دار ٹھہرانا اور اسے واحد حل قرار دینا ایک غیر حقیقت پسندانہ مؤقف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تینوں افواج کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دینا دراصل اس بات کا اشارہ ہے کہ آپریشن کے دوران کوآرڈینیشن میں مسائل موجود تھے۔
ماہرین نے “نئے سندور” جیسے بیانات کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے ماضی کی کمزوریوں کو پسِ پشت ڈالنے کی کوشش ظاہر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق تکنیکی پہلوؤں کا سہارا لے کر کارکردگی پر سوالات سے بچنے کی کوشش غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل کی عکاسی کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ بری، بحری اور فضائی افواج کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کے فقدان نے آپریشن سندور میں کارکردگی کو متاثر کیا، جبکہ عالمی سطح پر محدود حمایت بھی ایک چیلنج رہی۔
دوسری جانب دفاعی حلقوں کا کہنا ہے کہ خطے میں کسی بھی ممکنہ کشیدگی کی صورت میں پاکستان مؤثر اور فیصلہ کن ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 22 اپریل، 2026 کو 07:18 AM
آخری تدوین: 22 اپریل، 2026



