ایران کے پاس صرف 22 فیصد میزائل باقی، معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران کے پاس صرف 21 سے 22 فیصد میزائل باقی رہ گئے ہیں اور اسے بالآخر معاہدہ کرنا پڑے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا جبکہ آبنائے ہرمز کا بحران بھی جلد ختم ہونے کی توقع ہے
(واشنگٹن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے میزائل ذخائر میں نمایاں کمی آ چکی ہے اور اب تہران کے پاس مذاکرات اور معاہدے کے سوا کوئی مؤثر راستہ نہیں بچے گا۔
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس اب صرف 21 سے 22 فیصد میزائل باقی رہ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات ایران کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کریں گے جن کا اس نے ماضی میں کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ جاری تنازع اور اس کے حل میں وقت لگتا ہے اور ایسے معاملات فوری طور پر حل نہیں ہوتے، تاہم صورتحال تیزی سے اس سمت میں بڑھ رہی ہے جہاں ایران کو مذاکرات اور معاہدے کی طرف آنا پڑے گا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ ایران نے جنگ بندی کے لیے کسی ممکنہ ڈیل پر اپنی طاقت اور مزاحمت کے باعث فوری آمادگی ظاہر نہیں کی، لیکن بدلتے حالات بالآخر سفارتی حل کی راہ ہموار کریں گے۔
اس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ ایران کے معاملے پر نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی وہ ایسی پوزیشن میں ہے کہ جوہری ہتھیار بنا سکے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی تجارت کے لیے اہم اس آبی راستے سے بڑی تعداد میں آئل ٹینکرز گزر رہے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ بحران کے حل میں زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے اور جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ مستقبل قریب میں تیل کی قیمتیں موجودہ سطح سے بھی کم ہو سکتی ہیں، جس سے عالمی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 6 جون، 2026 کو 06:44 AM
آخری تدوین: 6 جون، 2026



