امریکا اور اسرائیل نے یو اے ای کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال کی، عباس عراقچی کا دعویٰ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس اس حوالے سے دستاویزی ثبوت موجود ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
(تہران) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے متحدہ عرب امارات کی سرزمین استعمال کی، جبکہ تہران کے پاس اس حوالے سے دستاویزی ثبوت بھی موجود ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم اگر اس پر کسی قسم کی جارحیت مسلط کی گئی تو وہ اپنے دفاع کے لیے بھرپور اور مؤثر جواب دے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے مؤقف میں مکمل طور پر واضح ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے یا خطرے کی صورت میں اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال کی اور تہران کے پاس اس دعوے کے شواہد موجود ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید الزام عائد کیا کہ بعض فوجی کارروائیوں میں متحدہ عرب امارات نے خود بھی کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق ایران اور یو اے ای کے تعلقات میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر متحدہ عرب امارات دیگر خلیجی ممالک کی طرح متوازن علاقائی پالیسی اختیار کرتا تو تہران اور ابوظہبی کے تعلقات کہیں زیادہ بہتر ہو سکتے تھے۔
دوسری جانب اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی الزام عائد کیا تھا کہ کویت اور بحرین ایران پر امریکی حملوں میں براہ راست ملوث ہیں۔ ترجمان نے کہا تھا کہ ایران اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔
علاقائی ماہرین کے مطابق ایران کے حالیہ بیانات سے خلیج میں سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جبکہ خطے کی سلامتی کی صورتحال پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 5 جون، 2026 کو 01:31 PM
آخری تدوین: 5 جون، 2026



